طیارہ حادثے کے تحقیقاتی بیورو AAIB نے ایئر انڈیا کے اُس طیارہ حادثے کی تحقیقات کی، 15 صفحات پر مشتمل ابتدائی رپورٹ کَل رات جاری کردی، جس میں پچھلے مہینے کی 12 تاریخ کو احمد آباد میں 260 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تفتیش میں ایک کے بعد ایک سرزد ہونے والے واقعات اور انجن کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی گئی ہے جس کی وجہ سے ایئر انڈیا کی اِس پرواز AI-171 کے تحت Boing 787-8 طیارہ حادثے کا شکار ہوا۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ طیارے کے انجن میں ایندھن پہنچنا بند ہوگیا تھا۔
AAIB نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جیسے ہی طیارے نے پرواز شروع کی، چند سیکنڈ میں ہی، طیارے کے ایندھن کو کنٹرول کرنے والے دونوں انجن RUN کی پوزیشن سے کٹ آف پوزیشن میں آگئے اور پھر بند ہوگئے، جس کی وجہ سے یہ المناک حادثہ پیش آیا۔
ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایک پائلٹ کو Cockpit Voice Recorder میں دوسرے پائلٹ سے یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اُس نے انجن میں ایندھن کی سپلائی کیوں بند کردی، جس کا جواب دوسرے پائلٹ نے یہ کہہ کر دیا کہ اُس نے نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ پرواز شروع ہونے سے حادثے کا شکار ہونے تک تقریباً 30 سیکنڈ تک جاری رہی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ہی پائلٹوں کو پرواز سے پہلے آرام کا وقت دستیاب تھا۔
AAIB نے کہا کہ تحقیقاتی ٹیم مزید شواہد کا جائزہ لے گی، جن کی متعلقہ فریقوں نے مانگ کی ہے۔x