وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بات کو اُجاگر کیا ہے کہ کم خرچ، قابلِ بھروسہ اور پائیدار توانائی کو یقینی بنانا بھارت کی ترجیح ہے۔ کناڈا کے شہر Kananaskis میں G7 کی 51 ویں سربراہ کانفرنس سے اپنے خطاب میں جناب مودی نے زور دے کر کہا کہ AI اپنے آپ میں توانائی کی سرگرمی والی تکنیک ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی تکنیک کے سرکردہ رول والے معاشرے کی توانائی کی ضروریات پائیدار انداز سے پوری کرنے کا راستہ ہے۔
جناب مودی نے گلوبل ساؤتھ کی تشویش اور ترجیحات پر توجہ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے گلوبل ساؤتھ کی آواز عالمی سطح پر لانے کو اپنی ذمہ داری سمجھا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ گلوبل ساؤتھ میں کوئی بھی پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔
وزیر اعظم نے ایک پائیدار اور ماحولیات کے لیے سازگار وسیلے کے ذریعے سبھی کے لیے توانائی کی یقینی فراہمی کی ضرورت بھی اُجاگر کی اور اس مقصد کے حصول کے لیے بین الاقوامی شمسی، عالمی بائیو ایندھن اتحاد جیسے بھارت کے اقدامات کا تذکرہ کیا۔
ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے لگاتار چھٹی مرتبہ G7 سربراہ کانفرنس میں شرکت کی ہے۔
وزیر اعظم مودی نے دہشت گردی کے خلاف بھارت کے موقف کا اعادہ کیا اور پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کرنے کیلئے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر اقدامات کرنے اور دہشت گردی کو بڑھاوا دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے ٹیکنالوجی کے جمہوری استعمال کے تعلق سے بھارت کے تجربے کو بھی اجاگر کیا۔ انھوں نے آرٹیفیشیل انٹلی جنس سے متعلق تشویشات کو حل کرنے کی غرض سے عالمی حکمرانی کے معاملات سے نمٹنے اور اس شعبے میں اختراع کو فروغ دینے پر زور دیا۔
کناڈا کا اپنا کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی تین ملکوں کے اپنے دورے کے آخری مرحلے میں کروشیا روانہ ہو گئے ہیں۔×