وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آج پوری دنیا کسی نہ کسی ذہنی دباؤ سے گزر رہی ہے اور ایسی صورتحال میں یوگ ہمیں امن کی جانب ایک سمت فراہم کرتا ہے۔
وشاکھاپٹنم سے، یوگ کے بین الاقوامی دن کی تقریبات کی قیادت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آج 11ویں بار ہے کہ پوری دنیا 21 جون کو اجتماعی طور پر یوگ کر رہی ہے اور یہ کرشمہ ہے کہ یوگ نے پوری دنیا کو مربوط کر دیا ہے۔
وزیر اعظم نے اس دن کو بین الاقوامی دن قرار دیے جانے کے سفر کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب بھارت نے اقوام متحدہ میں تجویز پیش کی تھی کہ 21 جون کو، یوگ کا بین الاقوامی دن قرار دیا جائے اور پھر مختصر ترین وقت میں دنیا کے 175 ممالک نے اس تجویز کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ محض تجویز کی حمایت نہیں تھی، بلکہ یہ دنیا کی، انسانیت کی فلاح کے تئیں اجتماعی کوشش بھی تھی۔
وشاکھاپٹنم میں آج دلکش ساحلی علاقے پر یوگ کے بین الاقوامی دن کی شاندار تقریبات منعقد کی گئیں، جن کی قیادت وزیر اعظم نریندر مودی نے کی۔ اُن کے ساتھ آندھراپردیش کے وزیر اعلیٰ این چندربابو نائیڈو اور آیوش کے وزیر مملکت آزادانہ چارج پرتاپ راؤ جادَھو اور دیگر شخصیتیں بھی موجود تھیں۔ اس تقریب میں لگ بھگ 2 لاکھ 72 ہزار لوگوں نے حصہ لیا، جس میں مشرقی بحری کمان نے فلائی پاس کیا۔ یہ یوگ اجلاس 45 منٹ طویل تھا۔
وشاکھاپٹنم میں آر-کے Beach سے لے کر بھیمنی پٹنم تک 28 کلو میٹر تک کی ساحلی پٹّی پر یوگ کے بین الاقوامی دن کی تقریب میں لاکھوں لوگ جمع ہوئے، جن میں تربیت یافتہ لوگ بھی تھے اور ایسے لوگ بھی تھے، جنہوں نے یوگ پہلی بار کیا۔ اتحاد کے اس قابلِ تحسین مقابلے میں انہوں نے کھلے آسمان کے نیچے ایک ساتھ یوگ کیا، جس کا مقصد اپنی نوعیت کے سب سے بڑے اجتماع کے طور پر Guinness ورلڈ ریکارڈ میں جگہ بنا لی تھی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں یہ یوگ اجلاس منعقد کیا گیا۔ اس سے پہلے آج ڈاک کے محکمے نے یادگاری ٹکٹ جاری کیا۔ اس موقع پر وزیر اعظم نے لوگوں سے کہا کہ وہ ایک کرہئ ارض ایک صحت کے جذبے کے طور پر اپنی روزمرہ کی زندگی میں یوگ کو شامل کریں۔ انہوں نے آندھراپردیش سرکار کی بھی ستائش کی کہ اُس نے ایک ماہ طویل Yogandhra مہم چلائی، جس کے دوران تقریباً 2 کروڑ لوگوں کو یوگ کی تربیت دی گئی۔