وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ سرکار کسانوں کی زندگی میں نمایاں تبدیلی لانے کیلئے پُر عزم ہے اور ”پردھان منتری دَھن دھانیہ کِرشی یوجنا“ اِس سمت میں ایک اور قدم ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں جناب مودی نے کہا کہ اِس سے نہ صرف اُن اضلاع میں فصلوں کی پیداوار میں اضافہ ہوگا، جو زرعی شعبے میں پیچھے ہیں، بلکہ اَن داتا کسانوں کی آمدنی بھی بڑھے گی۔
مرکزی کابینہ نے کل چھ سال کی مدت کے لیے ”پردھان منتری دَھن دھانیہ کِرشی یوجنا“ کو منظوری دی ہے، جس کی شروعات 2025-26 سے ہوگی اور اس کے تحت 100 ضلعوں کا احاطہ کیا جائے گا۔ یہ اسکیم نیتی آیوگ کے امنگوں والے اضلاع پروگرام سے متاثر ہے، جو خاص طور پر زراعت اور اس سے منسلک شعبوں پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا پروگرام ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق، اس اسکیم کا مقصد زرعی پیداوار کو بڑھانا، فصلوں کے تنوع کو اپنانا، پائیدار زرعی طور طریقوں کو بڑھانا، پنچایت اور بلاک کی سطح پر فصلوں کی کٹائی کے بعد فصلوں کے ذخیرے میں اضافہ کرنا، آبپاشی کی سہولیات کو بہتر بنانا نیز طویل مدتی اور قلیل مدتی قرضے کی دستیابی کو آسان بنانا ہے۔ اس اسکیم کا اعلان 2025-26 کے بجٹ تجاویز کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا تھا تاکہ ”پردھان منتری دَھن دھانیہ کِرشی یوجنا“ کے تحت 100 اضلاع کو ترقی دی جا سکے۔ کابینہ کی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں کو جانکاری فراہم کرتے ہوئے اطلاعات و نشریات کے وزیر اشونی وشنو نے کہا کہ اس اسکیم کو 11 محکموں، دیگر ریاستی اسکیموں اور پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ مقامی شراکت داری میں 36 موجودہ اسکیموں کو ملا کر نافذ کیا جائے گا۔
جناب ویشنو نے کہا کہ 100 ضلعوں کی شناخت کم پیداواریت، کم فصلوں کی پیداوار اور قرض کی کم تقسیم کے تین اہم اشارے کی بنیاد پر کی جائے گی۔
NTPC Renewable انرجی لمیٹڈ اور اس کے دیگر مشترکہ پروجیکٹس یا ذیلی اداروں میں 20 ہزار کروڑ روپے تک کی سرمایہ کاری کے لیے NTPC لمیٹڈ کے اختیارات کو بڑھانے کی خاطر کابینہ کی منظوری کے فیصلے پر وزیر اعظم مودی نے کہا کہ یہ اقدام قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی بھارت کی کوششوں کو فروغ دینے والا ہے۔ قابل تجدید توانائی کے یہ پروجیکٹس، تعمیراتی مرحلے کے ساتھ ساتھ کام کاج اور رکھ رکھاؤ کے مرحلے کے دوران مقامی لوگوں کے لیے براہ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع بھی پیدا کریں گے۔×