وزیر اعظم نریندر مودی نے اِس یوم آزادی کے موقع پر، لال قلعہ کی فصیل سے، دیوالی تک اگلے سلسلے کی GST اصلاحات کرنے کا اعلان کیا تھا۔
وزیراعظم کے اِس ویژن نے 3 ستمبر کو اُس وقت حقیقت کی شکل اختیار کرلی، جب GST کونسل نے 3 ستمبر کو عام آدمی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ٹیکس کی شرحوں کو معقول بنانے کی منظوری دی۔GST کونسل نے بالواسطہ ٹیکس نظام کو چار زمروں یعنی پانچ فیصد، 12 فیصد، 18 فیصد اور 28 فیصد کو دو زمروں یعنی 5فیصد اور 18 فیصد میں تبدیل کردیا۔
اِن اصلاحات کے نتیجے میں کئی شعبوں میں ٹیکس کی شرحوں میں کمی کی گئی ہے جس سے شہریوں کی زندگی آسان ہوگئی ہے۔
آج ہم اُن اصلاحات پر نظر ڈالتے ہیں جو طبی آلات اور ادویات جیسے آیوروید، یونانی اور ہومیوپیتھی کے لیے کی گئی ہیں۔ ہمارے نامہ نگار نے خبر دی ہے کہ عام لوگوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے جی ایس ٹی اصلاحات کی گئی ہیں۔ یہ اصلاحات اِس ماہ کی 22 تاریخ سے نافذ العمل ہوں گی۔
اس ماہ کی 3 تاریخ کو جی ایس ٹی کونسل نے اگلے سلسلے کی GST اصلاحات کا اعلان کیا، جس کے تحت صحت کے شعبے میں ٹیکس میں نمایاں کمی کے ذریعے عام لوگوں کو بڑی راحت فراہم کی گئی ہے۔ GSTکونسل نے آیوروید، یونانی اور ہومیوپیتھی سے متعلق مختلف ادویات پر ٹیکس کی شرح 12 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کر دی ہے۔ اسی طرح، میڈیکل، ڈینٹل اور جانوروں کے علاج کے آلات پر جی ایس ٹی شرحیں 18 فیصد سے گھٹا کر 5 فیصد کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، میڈیکل گریڈ آکسیجن پر ٹیکس کی شرح 12 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردی گئی ہے۔
ادویات پر جی ایس ٹی میں کمی سے اسپتالوں پر بوجھ کم ہونے کی توقع ہے جس سے مریضوں، خاص طور پر کم آمدنی والے خاندان کو کافی فائدہ پہنچے گا۔
طبی آلات پر ٹیکس کی نئی شرحیں فارما اور میڈیکل آلات کے شعبوں میں گھریلو پیداوار کی حوصلہ افزائی کریں گی اور صحت کی سہولتوں کو زیادہ قابلِ رسائی بنائیں گی۔x