وزیر اعظم نریندر مودی نے کل ارجنٹینا کے صدر Javier Milei کے ساتھ ایک مفید اور نتیجہ خیز میٹنگ کی۔ یہ دورہ پچھلے 57 سال میں کسی بھارتی وزیر اعظم کا ارجنٹینا کا پہلا دو طرفہ دورہ تھا۔ دونوں رہنماؤں نے بالمشافہ میٹنگ کی، جس کے بعد وفود کی سطح کی بات چیت ہوئی، جس میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت اور کاروبار، ٹیکنالوجی، دفاع، خلا، صحت اور دوا سازی سمیت اہم شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک کے لیے ممکنہ مواقع پر غور و خوض کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے بھارت-MERCOSUR اہم تجارتی معاہدے کو بڑھانے کے لیے ارجنٹینا کی حمایت کی درخواست کی۔ سَستی اور معیاری دواؤں میں اپنی طاقت کو اجاگر کرتے ہوئے، بھارت نے، بھارتی دوا ساز کمپنیوں کے لیے داخلے کی شرائط میں نرمی کا مطالبہ کیا۔ ارجنٹینا نے تصدیق کی کہ وہ بھارت سے امریکی FDA یا یوروپی EMA منظوری والی دواؤں کی درآمد کی اجازت دے گا۔ میٹنگ کے دوران توانائی اور اہم معدنیات میں باہمی تعاون پر بھی خصوصی توجہ مرکوز کی گئی۔ شیل گیس، تیل اور لیتھیم کے وسیع ذخائر کے ساتھ ارجنٹینا کو بھارت کی بڑھتی ہوئی صاف ستھری توانائی اور صنعتی ضروریات کو پورا کرنے میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
میٹنگ میں خلا کے شعبے میں تعاون، ڈرونز کے متعدد استعمال اور کھیلوں کے بندوبست پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر Milei نے بھارت کے UPI میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں نے مالیاتی پالیسی میں، اس کے کردار کا مطالعہ کرنے کے لیے مرکزی بینک کے اہلکاروں کے دورے میں سہولت فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیر اعظم نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے ارجنٹینا کا شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے صدر Milei کو بھارت کا دورہ کرنے کے لیے بھی مدعو کیا۔
بیونس آئرس سے روانہ ہونے سے قبل وزیر اعظم نے مہاتما گاندھی اور گرودیو رابندر ناتھ ٹیگور کے مجسمے پر گلہائے عقیدت پیش کیے۔ وزیر اعظم کے 5 ملکوں کے دورے کا اگلا مرحلہ برازیل ہے، جہاں وہ Rio de Janeiro میں 17ویں برکس سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے اور اس کے بعد Brasilia کا سرکاری دورہ کریں گے۔×