ملک قومی گیت وندے ماترم کے 150 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے۔ یہ ایک ایسا گیت ہے، جس سے ملک کی ہر آنے والی نسلوں کو متحد ہونے، اوپر اُٹھنے اور ملک کے جذبے کا جشن منانے کی ترغیب ملتی ہے۔
آج ہم اس بات کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ کس طرح وندے ماترم نے آواز، پرچم اور بھارت کی تحریکِ آزادی کے جذبے کو اُجاگر کیا۔
وندے ماترم کے طاقتور نعرہ کی باز گشت نہ صرف آوازوں میں بلکہ بھارت کی جدوجہد آزادی کی امنگوں اور علامات میں بھی زندہ رہی۔ یہ قومی پرچم کے کئی ابتدائی ورژن میں بھی نظر آیا۔ یہ ڈیزائن آزادی کی خواہش رکھنے والے لوگوں کے خوابوں اور عزم کی عکاسی کرتا تھا۔ 1904 میں سسٹر نویدیتا نے وجر پرچم ڈیزائن کیا جس پر وندے ماترم بنگالی میں تحریر تھا۔ یہ پرچم جلدہی مزاحمت کی ایک علامت بن گیا، جو بنگال کی تقسیم کے دوران میٹنگوں اور ریلیوں میں نظر آیا اور بعد میں اس کی 1906 میں کلکتہ کانگریس میں فخر کے ساتھ نمائش کی گئی۔ پہلا پرچم، جسے پورے بھارت میں تسلیم کیا گیا وہ 7 اگست 1906 کو کلکتہ میں Parsi Bagan میں لہرایا گیا۔
کلکتہ پرچم جسے بندے ماترم جھنڈا بھی کہا جاتا ہے، کئی عصری تبدیلیوں سے گزرا، لیکن سبھی میں مقدس وندے ماترم درج تھا۔
یہ جلد ہی بھارت کے اتحاد اور امید کی ایک طاقتور علامت بن گیا۔1906 میں بپن چندرپال نے بندے ماترم کے نام سے ایک جریدہ شروع کیا اور Sri Aurobindo کو اس میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ انھوں نے مل کر اسے ایک مضبوط پلیٹ فارم میں تبدیل کردیا جو ذہنوں کو بیدار کرتا تھا اور لوگوں کو عمل کی ترغیب دیتا تھا۔ اس کے ذریعہ وندے ماترم محض ایک نعرے سے آگے بڑھ کر فکر، ہمت اور قومی فخر کی ایک تحریک بن گیا۔