عوامی خدمت اور اچھی حکمرانی پر مبنی سیوا اور سُساشن کے منتر سے تحریک حاصل کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر قیادت حکومت، تبدیلی اور ترقی کی خاطر انتھک کام کر رہی ہے۔ آج ہم خصوصی سیریز ’سیوا پرو‘ میں اِس بات کا ذکر کریں گے کہ کس طرح مودی حکومت نے ٹیکسوں میں راحت اور یقینی پنشن کی سہولت فراہم کی ہے۔
پچھلے گیارہ سالوں میں حکومت نے متوسط طبقے کے لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لیے بہت سے اقدامات کیے ہیں۔ انکم ٹیکس کی شرحوں کو کم کرنے سے لے کر رِٹرن کو آسان بنانے تک، حکومت کا ہر قدم اس نظریے کے ساتھ اٹھایا گیا کہ شہری جو کچھ کما رہے ہیں، اُس کا زیادہ سے زیادہ حصہ وہ اپنے پاس رکھ سکیں۔ حال ہی میں کی گئیں ٹیکس سے متعلق اصلاحات، خصوصی طور پر جو اصلاحات مرکزی بجٹ 2025-26 میں کی گئی تھیں، اس کی واضح مثال ہیں کہ حکومت ملک کی ترقی میں متوسط طبقے کو ایک اہم ستون کے طور پر دیکھتی ہے۔ ایک اہم دیگر فیصلہ یہ تھا کہ Capital Gain جیسی خصوصی آمدنی کو چھوڑ کر، جن افراد کی آمدنی سالانہ 12 لاکھ روپے ہے، اُنہیں کوئی انکم ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا۔
مرکزی بجٹ کو پیش کیے جانے کے بعد اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ حکومت غریب اور متوسط طبقے کے لیے ٹیکس میں راحت کو یقینی بنا رہی ہے۔
ایک اور اہم قدم کے طور پر حکومت نے سرکاری ملازمین اور اُن کے کنبوں کے لیے سماجی تحفظ کو مضبوط بنایا، اس سلسلے میں مرکزی کابینہ نے پچھلے سال اگست میں یونیفائڈ پنشن اسکیم کو منظوری دی تھی۔ یہ اسکیم رٹائرمنٹ سے پہلے آخری 12 مہینوں کے دوران نکالی گئی اوسط بنیادی تنخواہ کے 50 فیصد کی یقینی پنشن کو یقینی بناتی ہے، جو کم از کم 25 سال کی سروس والے ملازمین پر لاگو ہوتی ہے۔ اس اسکیم سے مرکزی حکومت کے تقریباً 23 لاکھ ملازمین کو فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔
ٹیکس میں راحت سے لے کر پنشن اسکیموں تک، جو کہ بڑھاپے میں تحفظ کا وعدہ کرتی ہیں، لاکھوں لوگوں کی زندگی آسان، منصفانہ اور زیادہ باوقار بنانے کے لیے مسلسل اور مخلصانہ کوششیں دیکھنے میں آئی ہیں۔×