سیوا اور سُشاسن یعنی عوامی خدمت اور بہتر حکمرانی کے منتر سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت انقلابی تبدیلی لانے اور ترقی کے لیے مسلسل محنت کر رہی ہے۔ ”سیوا پَرَو“ کی خصوصی سیریز کے تحت آج ہم پیش کر رہے ہیں کہ مودی سرکار نے ہمارے ماحول اور حیاتیاتی تنوع کو کس طرح مثبت طور پر بدلا ہے۔
قدیم وید کے فلسفے – ”کرہئ ارض ہماری ماں ہے اور ہم اس کے بچے ہیں“ – بھارت کا ماحول سے ہم آہنگی کا سفر ایک زندہ تصویر کی طرح نمایاں ہے۔
گزشتہ 11 برسوں میں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں اس قدیم فلسفے کو مضبوط اور عملی اقدامات میں بدلا گیا ہے۔
پروجیکٹ ٹائیگر اور پروجیکٹ Lion سے لے کر ولولہ انگیز پروجیکٹ چیتا تک، ملک نے اِن جانوروں کی پناہ گاہوں کو مضبوط کیا ہے اور ان اقسام کا دوبارہ احیا کیا ہے جو کبھی ختم سمجھی جاتی تھیں۔ آج بھارت دنیا میں جنگلی شیروں کی سب سے بڑی آبادی کا مسکن ہے۔ ایشیائی شیروں کی آبادی بڑھ کر 891 تک پہنچ گئی ہے۔ پچھلی دہائی میں ان کی آبادی میں 70 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
اسی دوران، چیتے سات دہائیوں کے بعد بھارت واپس آئے ہیں اور ملک کی سرزمین پر نئے بچوں کو جنم دیا ہے، جو انقلابی پروجیکٹ چیتا کا حصہ ہے۔
ہمارے دلدلی علاقے بھی نئی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ بھارت کے پاس اب 91 رامسر مقامات ہیں، جو ایشیا میں سب سے زیادہ ہیں اور یہ نقلِ مکانی کرنے والے پرندوں اور نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ کو یقینی بناتے ہیں۔
زمینی سطح پر ”ایک پیڑ ماں کے نام“ مہم کے تحت 142 کروڑ سے زیادہ درخت لگائے گئے ہیں، جس نے ماحولیات کو لوگوں کے جذبات کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔ اس دوران جنگلاتی رقبے میں بھی بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ واضح پالیسیوں اور عوامی شراکت داری کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت سبھی کے لیے ماحولیات کے لیے سازگار، صحت مند اور محفوظ مستقبل تعمیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔