سیوا اور سُشاسن یعنی عوامی خدمت اور اچھی حکمرانی کے منتر پر قدم بڑھاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سرکار بڑی تبدیلی لانے اور ترقی کیلئے انتھک کام کررہی ہے۔

سیوا اور سُشاسن یعنی عوامی خدمت اور اچھی حکمرانی کے منتر پر قدم بڑھاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سرکار بڑی تبدیلی لانے اور ترقی کیلئے انتھک کام کررہی ہے۔ Seva Parv کے عنوان سے خصوصی سلسلے میں آج ہم اِس بارے میں بات کررہے ہیں کہ مودی سرکار نے کس طرح پورے ملک میں خواتین کو بااختیار بنانے کے عمل کو مستحکم کیا ہے۔

پچھلے گیارہ سال میں سرکار نے مختلف سماجی، معاشی، سیاسی اور قانونی شعبوں میں خواتین کو بااختیار بنانے کی خاطر ایک جامع پالیسی فریم ورک اختیار کیا ہے۔ ہر خاتون کو، خواہ وہ شہری علاقے کی ہو یا دیہی، نوجوان ہو یا بزرگ، عزت ووقار، سلامتی اور خود انحصاری کے ساتھ زندگی گزارنے کیلئے اُسے بااختیار بناتے ہوئے ناری شکتی اب ایک قومی مشن بن گیا ہے۔ اب توجہ خواتین کی ترقی سے، خواتین کے زیرِ قیادت ترقی پر مرکوز ہو گئی ہے۔ پچھلے سال دسمبر میں ہریانہ میں وزیراعظم نریندر مودی نے بیمہ سکھی اسکیم کا آغاز کیا۔

اِدھر بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اسکیم کے خاطر خواہ نتیجے سامنے آئے ہیں۔ قومی سطح پر لڑکوں اور لڑکیوں کی پیدائش کے تناسب میں بہتری آئی ہے۔ سُکنیا سمردھی یوجنا جنوری 2015 میں شروع کی گئی تھی اور یہ پورے ملک میں لاکھوں بچیوں کیلئے امید اور بااختیار بنانے کی ایک کِرن ثابت ہوئی ہے۔ سرکار لکھپتی دیدی پہل پر بھی عمل کر رہی ہے تاکہ اپنی مدد آپ کرنے والے گروپوں کی خواتین کو مستقل طور پر کم از کم ایک لاکھ روپے سالانہ کی آمدنی ہو سکے۔ جموں و کشمیر کی رہنے والی شبنم قادر نے اِس بات کا تذکرہ کیا کہ اپنی مدد آپ کرنے والے گروپ میں شامل ہونے سے کس طرح اُن کی زندگی بدل گئی۔ اِس طرح سب سے نچلی سطح پر حکمرانی سے لے کر دفاعی فورسز اور Aviation تک خواتین مختلف شعبوں میں پیش پیش ہیں۔x

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔