بین الاقوامی مالی فنڈ IMF نے کہا ہے کہ بھارت Unified Payments Interface (یو پی آئی) کے ذریعے اس سال جون میں، 24 اعشاریہ صفر تین لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے 18 ارب 39 کروڑ لین دین کے ساتھ تیزی کے ساتھ ادائیگیوں میں دنیا بھر میں سب سے آگے ہے۔ بڑھتی ہوئی خردہ ڈیجیٹل ادائیگیاں: Interoperability کی قدر کے عنوان سے IMF کے ایک حالیہ نوٹ کے مطابق، UPI نے ماہانہ 18 ارب لین دین کر کے بھارت کی ادائیگی کے ایکو نظام میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔
تجارت کی وزارت کے مطابق، اپریل تا جون کی سہ ماہی کے دوران، امریکہ، متحدہ عرب امارات اور چین، بھارت کے الیکٹرانکس شعبے کے لیے تین سرِ فہرست برآمداتی مراکز کے طور پر ابھرے ہیں۔ نیدرلینڈس اور جرمنی ملک کی الیکٹرانک برآمدات کے لیے دیگر اہم برآمداتی مراکز ہیں۔ یہ جغرافیائی وسعت، عالمی الیکٹرانکس سپلائی چَین میں بھارت کے بڑھتے ہوئے قد کو اُجاگر کرتی ہے اور ایشیا میں ایک قابل اعتماد متبادل مینوفیکچرنگ مرکز کے طور پر ملک کی ترقی کی عکاسی کرتی ہے۔ امریکہ، بھارت کے لیے سب سے بڑا برآمدی مرکز ہے، جس کا حصہ 60 اعشاریہ ایک سات فیصد ہے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات کا 8 اعشاریہ صفر نو فیصد اور چین کا 3 اعشاریہ آٹھ آٹھ فیصد ہے۔
اعداد و شمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ امریکہ، بھارت کے تیار ملبوسات کی برآمدات کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ بھارت کے کُل تیار ملبوسات کا 34 اعشاریہ ایک-ایک فیصد حصہ امریکہ کو جاتا ہے۔ امریکہ کے بعد برطانیہ کا 8 اعشاریہ آٹھ ایک فیصد، متحدہ عرب امارات کا 7 اعشاریہ آٹھ پانچ فیصد، جرمنی کا 5 اعشاریہ پانچ ایک فیصد اور اسپین کا 5 اعشاریہ دو نو فیصد حصہ ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی اپریل تا جون کے دوران ٹیکسٹائلز کے ریڈی میڈ ملبوسات کی برآمدات بڑھ کر 4 ارب 19 کروڑ ڈالر ہو گئیں، جبکہ اس کے مقابلے گزشتہ مالی سال کی اسی سہ ماہی میں یہ 3 ارب 85 کروڑ ڈالر کی تھیں۔ یہ اعداد و شمار عالمی ملبوسات کی مارکیٹ میں بھارت کی مسلسل مسابقت کی عکاسی کرتے ہیں۔