بھارت نے، ایٹمی صلاحیت کے کم دوری تک وار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں پرتھوی دوئم اور اگنی-ایک کی کامیاب آزمائش کی ہے۔ یہ تجربہ اُڈیشہ ساحل کے نزدیک چاندی پور میں مربوط تجرباتی مقام پر کیا گیا۔ اس سے اِن میزائلوں کی کلیدی مزاحم صلاحیت کی عکاسی ہوتی ہے۔ وزارتِ دفاع کے مطابق اِن میزائلوں کی آزمائش اسٹریٹیجک فورسز کمان نے انجام دی اور اس سے اس کے کام کرنے اور دیگر تکنیکی پیمانے صحیح ثابت ہوئے۔
پرتھوی دوئم میزائل تقریباً ساڑھے 300 کلو میٹر کی دوری تک وار کر سکتا ہے اور یہ 500 کلو گرام تک کے Payload لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل روایتی اور ایٹمی دونوں طرح کے ہتھیار لے جا سکتا ہے۔ اِدھر اگنی-ایک میزائل 700 سے لے کر 900 کلو میٹر کی دوری تک وار کر سکتا ہے اور یہ ایک ہزار کلو گرام تک کے ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پرتھوی دوئم اور اگنی-ایک دونوں میزائل بھارت کے ایٹمی مزاحم نظام کا اٹوٹ حصہ رہے ہیں۔ اس سے پہلے بدھ کے روز بھارت نے لداخ میں، ملک میں ہی تیار کیے گئے آکاش پرائم میزائل کی کامیاب آزمائش کی تھی، جو ساڑھے چار ہزار میٹر کی بلندی پر وار کرنے کیلئے تیار کیا گیا ہے۔ آکاش میزائل کی آزمائش پر وزارت نے کہا ہے کہ یہ خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ آپریشن سِندور کے دوران بھارت کے ملک میں ہی تیار کیے گئے فضائی دفاعی نظام کی شاندار کارکردگی کے تناظر میں کی گئی ہے۔ آکاش پرائم میزائل بھارتی فوج کیلئے تیار کیے گئے آکاش اسلحہ نظام کی ایک جدید شکل ہے۔ لداخ میں میزائل کی آزمائش اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ حقیقی کنٹرول لائن کے نزدیک واقع ہے۔ دفاع کے وزیر راجناتھ سنگھ نے اس اہم کامیابی کے لیے بھارتی فوج، دفاعی تحقیق اور ترقی کی تنظیم DRDO اور متعلقہ صنعت کو مبارکباد دی ہے۔