بھارت نے، مالدیپ کے ساتھ 6 مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد کئی شعبوں میں تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔ بھارت نے، مالدیپ کو 4 ہزار 850 کروڑ روپے کا قرض فراہم کیا ہے۔

بھارت نے، مالدیپ کے ساتھ 6 مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں، جس کا مقصد بہت سے شعبوں میں تعاون میں اضافہ کرنا ہے۔ مفاہمت ناموں پر دستخط کَل مالے میں صدر کے دفتر میں، وزیر اعظم نریندر مودی اور مالدیپ کے صدر محمد Muizzu کے درمیان بہت سے موضوعات پر ہوئی بات چیت کے بعد کیے گئے۔ اِن شعبوں میں ماہی پروری اور آبی زراعت یا Aquaculture، موسمیات، ڈیجیٹل سرکاری بنیادی ڈھانچہ، UPI، بھارتی دواسازی اور رعایتی شرحوں پر قرض شامل ہیں۔

دونوں ملکوں نے ایک ترمیمی معاہدہ بھی کیا، جس کی رُو سے مالدیپ کی سالانہ قرضے کی واپسی میں 40 فیصد کی کمی ہو جائے گی۔ یہ قرض 50 کروڑ 10 لاکھ ڈالر سے کم ہو کر 20 لاکھ 90 ہزار ڈالر رہ جائے گا۔

وزیر اعظم مودی نے، صدر Muizzu کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی سختی سے مذمت کی اور دہشت گردی کے خلاف بھارت کی لڑائی میں اُس کا ساتھ دیا۔

بات چیت کے بعد ایک مشترکہ پریس بیان میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ بھارت اور مالدیپ کے درمیان سفارتی تعلقات کے 60 سال پورے ہونے کی تقریبات منائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے اِن تعلقات کو تاریخ سے زیادہ قدیم اور سمندر سے زیادہ گہرے تعلقات قرار دیا۔

انہوں نے مالدیپ کی دفاعی صلاحیتوں کو مستحکم بنانے میں بھارت کی لگاتار مدد کا بھی یقین دلایا۔

دونوں ملکوں میں، ایک آزاد تجارتی معاہدے کے آغاز کے لیے بات چیت شروع کرنے کا بھی اعلان کیا۔

وزیر اعظم مودی نے خاص طور پر کہا کہ مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے اور دوطرفہ سرمایہ کاری کے معاہدے سے، دونوں ملکوں کے لیے نئے موقعے پیدا ہوں گے۔

بھارت نے، مالدیپ میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور دیگر سرگرمیوں میں مدد کے لیے 4 ہزار 850 کروڑ روپے کے تازہ قرضے کا اعلان کیا ہے۔

مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد Muizzu نے قرض فراہم کرنے پر بھارت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ قرض کی اِس رقم کو دفاع، بندرگاہوں، حفظانِ صحت، تعلیم اور ہاؤسنگ سمیت مختلف شعبوں میں استعمال کیا جائے گا۔

صدر Muizzu نے خاص طور پر کہا کہ بھارت، حفظانِ صحت کے شعبے میں مالدیپ کا سب سے بڑا شراکت دار ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ مالدیپ، بھارت کے ساتھ تعاون کو مزید مستحکم بنانے کا پابند ہے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔