ایران میں ملک گیر سرکار مخالف مظاہروں کا آج 16واں دن ہے۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مرنے والوں کی تعداد 544 ہوگئی ہے۔ پورے ایران میں انٹرنیٹ بند کیے جانے اور فون لائنس کو منقطع کیے جانے کے باوجود احتجاج میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ 10 ہزار 600 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔
اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران بات چیت کرنا چاہتا ہے اور وہاں کے لیڈروں کے ساتھ میٹنگ کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔ امریکی صدر نے البتہ یہ بھی کہا کہ ایران میں جاری احتجاج اور مظاہرین کے خلاف تشدد کے تناظر میں امریکہ کو مذکورہ میٹنگ سے پہلے کوئی قدم اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
دوسری طرف ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقَر Qalibaf نے انتباہ دیا ہے کہ ایران جوابی کارروائی کیلئے امریکی فوج اور کمرشل اڈوں کو نشانہ بنانے پر غور کرے گا۔
اسرائیل کے وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران میں بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج کے مضمرات پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔
اِس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ نے ایران میں مداخلت کی دھمکی دی تھی۔ اسرائیل کے وزیراظم نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے کَل رات ٹیلی فون پر گفتگو کی۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل Antonio Guteress نے ایران کے حکام پر زور دیا ہے کہ وہ جہاں تک ہو سکے، ضبط و تحمل سے کام لیں اور ملک میں جانکاری اور معلومات تک رسائی فراہم کریں۔x