آج پورے ملک میں مصنوعی ذہانت کی پزیرائی کا دن منایا جارہا ہے۔ یہ دن مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھارت کے بڑھتے عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

آج پورے ملک میں مصنوعی ذہانت کی پزیرائی کا دن منایا جارہا ہے۔ یہ دن مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھارت کے بڑھتے عالمی کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ حیدرآباد اور بینگلورو جیسے ٹیکنالوجی کے مراکز سے دیہی علاقوں تک مصنوعی ذہانت، حفظانِ صحت، تعلیم، زراعت، گورننس اور صنعتی اداروں میں تبدیلی کا محرک ہے۔

بھارت کا مصنوعی ذہانت کا سفر 1960 میں کمپیوٹر سائنس میں جاری تحقیق کے ساتھ شروع ہو گیا تھا۔ اِس ضمن میں 1986 کا سال ایک سنگِ میل ثابت ہوا، جب معلومات پر مبنی کمپیوٹر سسٹم پروجیکٹ کا آغاز ہوا۔ 1990 میں سی-ڈیک جیسے ادارے کی جانب سے جدید سُپر کمپیوٹر کو مصنوعی ذہانت کا ابتدائی دور کہا جا سکتا ہے۔ سال 2000 تک آئی ٹی کمپنیوں جیسے TCS، Infosys اور Wipro نے مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری شروع کی، جبکہ یونیورسٹیوں نے اِس شعبے میں صلاحیت سازی کے ضمن میں اہم رول ادا کیا۔ 2015 میں ڈیجیٹل انڈیا کی پیش رفت اور 2018 میں نیتی آیوگ کی حکمت عمل نے مصنوعی ذہانت میں ترقی کے نئے راستے کھول دیے۔ آج بھارت مصنوعی ذہانت کے شعبے میں عالمی سطح پر قائدانہ رول ادا کر رہا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔