BJP کے رکن پارلیمنٹ Baijayant Panda کی سربراہی میں سبھی پارٹیوں کا ایک وفد آج برطانیہ پہنچا ہے، تاکہ ہر قسم کی دہشت گردی کو بالکل بھی برداشت نہ کرنے کے بھارت کے پختہ عزم کو پیش کیا جاسکے۔ اپنی بات چیت کے دوران وفد سرحد پار کی دہشت گردی کے خلاف بھارت کے مضبوط موقف کو اجاگر کرے گا۔ سفیر ونود K.Jacob نے ہوائی اڈے پر جناب پانڈا اور اُن کے وفد کا خیر مقدم کیا۔ وفد میں سابق خارجہ سکریٹری ہرش وردھن Shringla، AIMIM کے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اُویسی، راجیہ سبھا کی ایم پی ریکھا شرما، جموں وکشمیر کے سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد، راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ ستنام سنگھ سَندھو، BJP کی رکن پارلیمنٹ Phangnon Konyak اور BJP کے رکن پارلیمنٹ ِنشی کانت دوبے شامل ہیں۔ وفد دہشت گردی کے خلاف بھارت کی مسلسل لڑائی سے واقف کرانے کی غرض سے سعودی عرب، کویت اور الجیریا کا بھی دورہ کرے گا۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور کی سربراہی میں سبھی پارٹیوں کا ایک اور وفد پانچ ملکوں میں سفارتی رابطے کیلئے آج صبح سویرے دلّی سے روانہ ہوا۔ یہ وفد سب سے پہلے Guyana گیا ہے، اس کے بعد وہ امریکہ، پناما، برازیل اور کولمبیا کا دورہ کرے گا۔ اپنی روانگی سے پہلے جناب تھرور نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو پیغام میں دہشت گردی کے خلاف بھارت کے موقف کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ امن اور امید کا مشن ہے۔
اس دوران JDU کے رکن پارلیمنٹ سنجے جھا کی سربراہی میں سبھی پارٹیوں کے ایک وفد نے جاپان میں واقع بھارتی سفارتخانے میں بھارت نژاد لوگوں سے ملاقات کی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب جھا نے بھارت کے متحدہ موقف کو پیش کیا اور 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے میں پاکستان کے رول کی وضاحت کی۔ انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ بھارت نے آپریشن سندور کے ذریعہ کس طرح پاکستان اور پاکستان کے قبضے والے کشمیر میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا۔ وفد نے دہشت گردی کو بالکل برداشت نہ کرنے کی بھارت کی پالیسی پر بھی زور دیا اور کہا کہ دہشت گردی اوربات چیت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی، خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا۔