یوروپی کمیشن کی صدر Ursula von der Leyen نے کہا ہے کہ بھارت اور یوروپی یونین آزادانہ تجارت کا تاریخی سمجھوتہ کرنے کے قریب ہیں، جس سے عالمی کامرس اور سپلائی نظام کو نئی جہت مل سکتی ہے۔ Davos میں عالمی اقتصادی فورم میں عالمی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے یوروپی کمیشن کی صدر نے مجوزہ تجارتی سمجھوتے کو سب سے اہم معاہدہ قرار دیا۔ محترمہ Von der Leyen نے کہا کہ یوروپی یونین نے دنیا کے بڑی ترقی والے مراکز کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنا کر اپنی معیشت کو جوکھم سے دور رکھنے اور سپلائی نظام کو متنوع بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے۔
یوروپی کمیشن کی صدر نے کہا کہ بھارت اور یوروپی یونین کے درمیان آزاد تجارت کا سمجھوتہ یوروپ کی وسیع تر حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد محصولات کے مقابلے منصفانہ تجارت، الگ تھلگ رہنے کے بجائے ساجھے داری اور استحصال کے بجائے پائیدار نظام قائم کرنا ہے۔ محترمہ Von der Leyen نے کہا کہ مذکورہ سمجھوتے سے تقریباً 2 ارب افراد کا ایک مشترکہ مارکیٹ پیدا ہوگا اور یہ عالمی GDP کے لگ بھگ ایک چوتھائی کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والے خطّوں میں سے ایک میں یوروپی کمپنیوں کو پہلے قدم رکھنے کا فائدہ حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس حکمتِ عملی میں بھارت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے بھارت-بحرالکاہل خطّے کو اس صدی کا ایک اقتصادی پاور ہاؤس قرار دیا۔
یوروپی کمیشن کی صدر نے کہا کہ Davos میں عالمی اقتصادی فورم کی میٹنگ کے بعد وہ بھارت کا دورہ کریں گی۔ محترمہ Von der Leyen اور یوروپی کونسل کے صدر Antonio Costa اس مہینے کی 25 تاریخ سے 27 تاریخ تک بھارت کے سرکاری دورے پر رہیں گے اور یہ دونوں رہنماء یومِ جمہوریہ تقریبات میں مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ اس کے بعد وہ بھارت-یوروپی یونین سربراہ میٹنگ کی مشترکہ طور پر صدارت کریں گے۔