یوروپی لیڈروں نے روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کیلئے امریکہ کی امن تجاویز پر جنیوا میں مذاکرات میں پیشرفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ سوئٹزرلینڈ میں کَل منعقدہ میٹنگ میں امریکہ کی جانب سے پچھلے ہفتے پیش کی گئی 28 نکاتی تجویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اِس تجویز میں یوکرین اور یوروپی راجدھانیوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی کہ اِس تجویز میں روس کے مطالبات کی بہت زیادہ حمایت کی گئی ہے۔
فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اِسٹب نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ یہ مذاکرات ایک قدم پیشرفت ضرور ہے لیکن اب بھی کئی ایسے بڑے معاملات ہیں جنھیں حل کئے جانے کی ضرورت ہے۔
جرمنی کے وزیر خارجہ جوہانس نے کہا کہ امریکہ کے وزیرخارجہ مارکو روبیو، جنھوں نے سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کی ہدایت دی، نے اِس بات کو یقینی بنانے کیلئے فیصلہ کن مثبت کردار ادا کیا کہ اِس منصوبے کو یوروپی اور یوکرین دونوں ہی تسلیم کرسکتے ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے جناب Wadephul نے کہا کہ یوروپ یا ناٹو سے متعلق تمام معاملات کو اِس منصوبے سے ہٹا دیا گیا ہے جو کہ ایک فیصلہ کن کامیابی ہے جسے کَل حاصل کیا گیا۔اِس منصوبے میں یوکرین پر دبائو بنایا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقے کا کچھ حصہ ماسکو کے سپرد کرنے کی اجازت دے اور اپنی فوج کی تعداد میں کمی کرے۔ اس تجویز میں یوروپ سے بھی اِس بات پر اتفاق قائم کرنے کی بات کی گئی ہے کہ یوکرین کو کبھی ناٹو کے فوجی اتحاد میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
جبکہ اتحاد نے اِس سے پہلے کہا تھا کہ یوکرین رکنیت کی ایک ایسی راہ پر ہے جس سے واپسی ممکن نہیں۔
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے کہا کہ سفارت نے ایک نئی توانائی پیدا کردی ہے اور جنیوا کی میٹنگ سے Kiv کیلئے کچھ امید پیدا ہوئی ہے۔
یوکرین کے دوسرے سب سے بڑے شہر Kharkiv میں روس کے رات کے وقت کئے گئے ایک بڑے حملے میں چار افراد ہلاک اور 17 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ Kharkiv کے میئر Igor Terekhov نے بتایا کہ رات کے وقت ہوئے حملے سے تین ضلعوں میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔ حملے میں کُل 40 رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ یہ حملہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب یوکرین نے جنیوا میں اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کردیا ہے جہاں یوکرین کا ایک وفد اُن تجاویز پر غور وخوض کر رہا ہے جن کا مقصد امن کی بحالی اور طویل مدتی سلامتی کی ضمانت حاصل کرنا ہے۔