ہم آپریشن سندور کی کامیابی کا جشن منا رہے ہیں لہٰذا قوم، بھارتی سپاہیوں کی بہادری کو سلام پیش کرتی ہے۔آکاشوانی کا خبروں کا شعبہ، مسلح فوجوں کیلئے خراج عقیدت کے طور پر ایک خصوصی سیریز پیش کررہا ہے۔
آج ہم یاد کررہے ہیں پرم ویر چکر یافتہ نائک جادو ناتھ سنگھ کو جنہوں نے 1947-48 کی، بھارت-پاکستان جنگ کے دوران اپنی جان قربان کردی تھی۔
VC- Saklen Akhtar
نائک جادو ناتھ سنگھ 1916 میں اترپردیش میں پیدا ہوئے تھے اور وہ 1 راجپوت رجیمنٹ میں 1941 میں شامل ہوئے تھے۔ بھارت-پاک جنگ کے دوران دسمبر 1947 کو Jhangar پر قبضے کے بعد پاکستانی سپاہیوں نے Naushahra سیکٹر میں بھی پیش قدمی کرلی تھی۔ بھارتی فوج نے مزید حملوں کا اندازہ لگاتے ہوئے، اہم ٹھکانوں کا محاصرہ کرلیا۔ نائک جادو ناتھ سنگھ نے 9 آدمیوں کی ایک اگلی چوکی کو سنبھالا۔ 6 فروری 1948 کی ایک صبح، جب دھند چھائی ہوئی تھی، دشمن نے Tain Dhar پر دھاوا بول دیا۔ اُس کی پہلی ہی کوشش میں سیکڑوں فوجی Picket No. 2 پر آگئے لیکن نائک جادو ناتھ سنگھ نے کم تعداد میں ہونے کے باوجود زبردست مزاحمت کی اور دشمن کو پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔
جادو ناتھ سنگھ کے 4 سپاہی زخمی ہوگئے تو انہوں نے فوری طور پر اپنے باقی سپاہیوں کو دوبارہ منظم کیا اگرچہ وہ خود بھی زخمی ہوگئے تھے لیکن انہوں نے ایک زخمی فوجی سے Bren Gun حاصل کی اور تباہ کن فائرنگ شروع کردی جس سے دشمن، اپنی دوسری کوشش کرنے سے رک گیا اور اُسے تقریباً شکست دے دی۔ چونکہ اُن کے ساتھی یا تو ہلاک ہوگئے تھے یا زخمی ہوگئے تھے لہٰذا دشمن نے اپنی تیسری کوشش میں اِس چوکی پر قبضہ کرلیا۔ نائب جادو ناتھ سنگھ اکیلے رہ گئے اور اُن کے جسم سے خون بہتا رہا لیکن وہ اپنے مورچے سے ابھرے اور اپنی اسٹین گن سے دشمن پر فائرنگ کردی۔بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اُن کے بالکل آخری وقت میں اُن کے سر اور سینے پر دو گولیاں آکر لگیں۔ البتہ نائک جادو ناتھ سنگھ نے اپنی بہادری اور قیادت کی بنیاد پر اِس چوکی کو دشمن کے ہاتھوں سے بچالیا۔ اُن کی قربانی اور غیر معمولی ہمت کی وجہ سے انہیں بعد از مرگ پرم ویر چکر سے نوازا گیا۔