GST بچت اُتسو 22 ستمبر کو شروع ہوا تھا، جب نریندر مودی حکومت نے بہت سے شعبوں میں GSTکی شرحیں کم تھیں، جس سے پورے ملک کے شہریوں کو فائدہ ہوا ہے۔ ہمارے نامہ نگار نے ایک رپورٹ پیش کی ہے کہ کس طرح اگلے دور کی GST اصلاحات سے خوراک کے شعبے کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔
اگلے دور کی GST اصلاحات کے تحت حکومت نے لازمی خوردنی اشیاء پر عائد GSTکو کم کر کے عام آدمی کو ایک بڑی راحت دی ہے۔ تبدیل شدہ اس ڈھانچے کے تحت پراٹھا، بریڈ، روٹی، پنیر اور انتہائی زیادہ درجہئ حرارت والے دودھ جیسی چیزوں پر سے ٹیکس پوری طرح ہٹا لیا گیا ہے۔ مکھن، گھی، کنڈنسڈ مِلک اور Jam پر بھی اب صرف 5 فیصد GST لگا کرے گا، جس سے اوسط درجے کی آمدنی والے کنبوں میں ان مصنوعات کی مانگ میں اضافہ ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ نمکین، بھجیا، مکسچر، پینے کے پانی، چٹنی اور رِفائن چینی والی اشیاء جیسی خوردنی چیزوں پر سے ٹیکس 5 فیصد کم کر دیا گیا ہے۔ GST کو معقول بنائے جانے سے خوراک پر آنے والے اخراجات میں بہتری آئی ہے۔ روزمرہ کے تغذیے کی یقین دہانی ہوئی ہے اور لوگوں کو مالی راحت فراہم ہوئی ہے۔