بھارت میں ایک دہائی کے دوران شاندار تبدیلی رونما ہوئی ہے اور اسے سیوا، سوشاسن اور غریب کلیان کے اصولوں سے تحریک ملی ہے۔ آکاشوانی کا خبروں کا شعبہ مختلف اہم شعبوں میں پچھلے گیارہ سال کے دوران حکومت کی کوششوں پر ایک خصوصی فیچر پیش کررہا ہے۔ آج ہم ڈیجیٹل انڈیا پر توجہ مرکوز کررہے ہیں کہ ٹیکنالوجی کس طرح حکمرانی، سب کی شمولیت اور تفویضِ اختیارات کی ریڑھ کی ہڈی بن گئی ہے۔
گذشتہ ایک دہائی کے دوران حکومت نے سب کی شمولیت والی ترقی اور زندگی کو آسان بنانے کیلئے ایک قوت کے طور پر ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا ہے اور بڑے پیمانے پر ڈیجیٹل ادائیگی کا طریقہ کار اپنایا گیا ہے۔ صرف اپریل 2025 میں ہی تقریباً 25 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے ایک ہزار 867 کروڑ سے زیادہ UPI لین دین کئے گئے۔ متحدہ عرب امارات، سنگاپور، بھوٹان، نیپال، سری لنکا، فرانس اور ماریشس سمیت سات ملکوں میں بھارت نے UPI کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کے معاملے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ دو لاکھ 18 ہزار سے زیادہ گرام پنچایتوں میں بھارت نیٹ اسکیم کے تحت براڈ بینڈ کی رسائی فراہم کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، بھارت میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعداد میں گذشتہ 11 برس میں 285 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ فائدوں کی براہ راست منتقلی کے نظام کے ذریعے لاکھوں فرضی افراد کو ہٹایا گیا ہے اور شفافیت، سرکاری فنڈ کی بچت اور بروقت فلاحی کاموں کی انجام دہی کو یقینی بنایا گیا ہے۔