کئی سرکردہ بھارتی یونیورسٹیوں نے قومی سکیورٹی وجوہات سے ترکیہ کے اداروں کے ساتھ اپنے تعلیمی مفاہمت نامے معطل کر دیے ہیں۔
اب جامعہ ملیہ اسلامیہ نے بھی ترکیہ کی سرکار سے منسلک اداروں کے ساتھ سبھی مفاہمت ناموں کو فوری طور سے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر جامعہ ملیہ اسلامیہ نے کہا ہے کہ وہ مضبوطی سے، ملک کے ساتھ کھڑا ہے۔حیدرآباد کی مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے بھی فوری طور پر ترکیہ کے یونس Emre انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ اپنے تعلیمی مفاہمت نامے کو منسوخ کر دیا ہے۔
اس سے قبل JNU نے، ترکیہ کی Inonu یونیورسٹی کے ساتھ مفاہمت نامہ معطل کر دیا تھا۔ اس سمجھوتے پر اس سال 3 فروری کو دستخط کیے گئے تھے۔
اس کا مقصد مشترکہ تحقیق اور طلبا کے ایک دوسرے کے ملک کے دورے کو فروغ دینا تھا۔
پاکستان کے لیے ترکیہ کی مدد اور سرحد پار دہشت گردوں کے کیمپوں پر بھارت کی حالیہ کارروائی پر اُس کی نکتہ چینی کے بعد بھارت اور ترکیہ کے تعلقات بگڑنے کے تناظر میں یہ فیصلے کیے گئے ہیں۔
اہم فوجی اور دفاعی امور پر پاکستان کا ساتھ دیے جانے کی وجہ سے بھارت میں یہ مانگ کی جا رہی ہے کہ ترکیہ کے سامان، اشیاء اور سیاحت کا بائیکاٹ کیا جائے۔