چھتیس گڑھ میں ماؤ نوازوں کے خلاف ایک کارروائی میں 16 خواتین ماؤ نوازوں سمیت 31 ماؤ نواز ہلاک ہوئے ہیں۔ بیجاپور میں آج ایک پریس کانفرنس میں CRPF کے ڈائریکٹر جنرل گیانیندر پرتاپ سنگھ، چھتیس گڑھ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل ارون دیو گوتم اور بیجاپور کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جتیندر کمار یادو نے بتایا کہ یہ کارروائی تقریباً 21 دن تک چلی، جو کہ ریاست کے بیجاپور ضلعے میں واقع Karregutta پہاڑیوں پر جاری رہی۔ یہ پہاڑی علاقہ تلنگانہ سرحد کے نزدیک واقع ہے۔ پیش ہے ایک رپورٹ…
اس آپریشن کے دوران اس سال 21 اپریل سے 11 مئی تک کل 21 انکاؤنٹر ہوئے۔ اس دوران سیلف لوڈنگ رائفل، سیمی آٹومیٹک ہتھیار اور 450 آئی ای ڈیز سمیت 35 اسلحے برآمد کیے گئے۔ اس کے علاوہ 214 بنکرس اور ماؤنوازوں کے خفیہ ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور تقریباً 12 ہزار کلو گرام راشن بھی ضبط کیا گیا۔ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے ماؤنوازوں میں سے اب تک 28 کی شناخت کی جاچکی ہے۔ ان ماؤنوازوں پر ایک کروڑ 72 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔
مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے اِس کارروائی کو یہ کہہ کر تاریخی کامیابی قرار دیا ہے کہ یہ کارروائی Karregutta پہاڑی علاقے میں نکسلی کمان کے اہم ترین ٹھکانے پر ہوئی، جہاں نکسلیوں کو تربیت دی جاتی تھی۔ دشوار گزار راستوں اور خراب موسم کے باوجود CRPF، اسپیشل ٹاسک فورس اور DRG کے اہلکاروں نے اِس مشن کو بے مثال بہادری کے ساتھ انجام دیا۔ جناب شاہ نے کہا کہ اِس سے مارچ 2026 تک بھارت کو نکسل سے پاک بنانے کے حکومت کے ہدف کی توثیق ہوتی ہے۔ x