پہلے جیوتِر لنگ پر جاری ”سومناتھ سوابھیمان پَرو“ پختہ عزم اور عقیدے کی ایک ہزار سالہ تاریخ کا عظیم جشن ہے۔ اس فیسٹیول میں سرکردہ شہید Hamirji Gohil کی وراثت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ مندر کا تحفظ کرنے کیلئے اُن کی عظیم قربانی بھارت کے قومی تشخص کی بنیاد رہی ہے۔
سومناتھ کا ساحل اس وقت لاٹھی کے بہادر شہزادے حمیرجی گوہِل کی آواز سے گونج رہا ہے۔ اس کی تاریخی اہمیت یہ ہے کہ انہوں نے پوتر شیولنگ کی حفاظت اُس وقت کی جب ظفرعلی خان کی فوجوں نے مندر پر حملہ کردیا۔ اپنے تخت وتاج اور نئی نویلی اہلیہ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے حمیرجی نے پورے عزم اور سبات قدمی کے ساتھ اُس کی فوج سے مقابلہ کیا۔ اس لڑائی میں اُن کے ساتھ وِگدا جی بھیل بھی شامل تھے۔ مندر کے مرکزی دروازے پر اُن کی یادگار اور عظیم الشان مجسمہ، اُن کی بے لوث قربانیوں کی گواہ ہے۔