پہلے جیوتر لِنگ میں جاری سومناتھ سوابھیمان پَرو صرف ایک روحانی اجتماع نہیں ہے بلکہ بھارت کی قدیم سائنسی بصیرت کا جشن بھی ہے۔ اس میں تاریخی بان استمبھ، ہمارے آبا واجداد کے جدید جغرافیائی علم اور مضبوط خوداعتمادی کا گواہ ہے۔
وسیع وعریض بحیرۂ عرب کی جانب رُخ کرکے سومناتھ مندر کے احاطے میں کھڑا بان استمبھ قدیم بھارتی جغرافیہ کا شاہکار ہے۔ اِس ستون پر سنسکرت زبان میں تحریر کتبہ یہ بتاتا ہے کہ سومناتھ میں اِس مخصوص مقام کے آگے جنوب کی جانب قطب جنوبی تک کوئی زمین نہیں ہے۔ زمین کے آخری حصے تک روشنی کا بلا رکاوٹ راستہ قدیم بھارتی اسکالروں کی سائنسی ذہانت اور عالمی نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سومناتھ پَرو عقیدتمندوں کیلئے اِن تاریخی حقائق کو نمایاں کر رہا ہے۔ یہ ستون اُس تہذیب کی عکاسی کرتا ہے جس نے صدیوں تک غیرملکی حملوں اور تباہی کے باوجود اپنے سائنسی نقطۂ نظر کو برقرار رکھا۔ نئی نسل کیلئے بان استمبھ، بھارت کی عظمت رفتہ، قومی یکجہتی کے فروغ اور خوداعتمادی سے انھیں جوڑنے کا اہم وسیلہ ہے۔
چونکہ مندر کی تعمیر نو مضبوط عقیدے کے ساتھ ہوئی تھی اس لئے یہ ستون بھارت کی غیر منقسم خودداری کی جیتی جاگتی علامت کے طور پر کھڑا ہے۔ یہ فیسٹیول قدیم ثقافتی ورثے کو جدید سائنسی نقطۂ نظر کے ساتھ موثر طریقے سے جوڑتا ہے اور دوبارہ اُٹھ کھڑے ہونے کے قومی عزم کو پورا کرتا ہے۔