ایران میں، حکومت مخالف مظاہرے، شہروں اور ملک کے خطّوں سے قطع نظر، سبھی 31 صوبوں میں کیے جانے لگے ہیں، جس کی وجہ سے 2022 میں پیدا ہونے والی بے چینی کے بعد سے اب تک، اسلامی جمہوریہ کو یہ سب سے بڑا چیلنج پیش آگیا ہے۔
مغربی ایشیاء کے اس ملک میں، ملک گیر مظاہرے کیے جا رہے ہیں، جن میں اقتصادی بحران کی وجہ سے مزید ابتری آگئی ہے۔ ساتھ ہی بڑھتی ہوئی افراطِ زر، بے روزگاری اور کمزور ہوتی ہوئی کرنسی کے سبب، عوام میں اور زیادہ غصہ پیدا ہو گیا ہے۔
ایران کے بیرونِ ملک، امریکہ میں قائم، حقوق کے گروپ ”انسانی حقوق کی سرگرمیوں سے متعلق خبر ایجنسی“ کے مطابق پچھلے مہینے کی 28 تاریخ کو مظاہرے شروع ہونے کے بعد سے 62 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں سکیورٹی عملے کے 14 اہلکار اور 48 مظاہرین شامل ہیں۔ اِس بے چینی کے دوران 2 ہزار 300 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
انٹرنیٹ نگراں NetBlocks نے خبر دی ہے کہ ایران میں ملک گیر سطح پر بلیک آؤٹ کر دیا گیا ہے اور سخت ڈیجیٹل سینسر شپ برتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ملک میں زیادہ تر کام، آف لائن کیے جا رہے ہیں۔
ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے کل ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ، ایسے افراد کو برداشت نہیں کرے گی، جو غیر ملکی طاقتوں کی کٹھ پتلی کے طور پر کام کر رہے ہیں، جیسا کہ ایران میں مغربی ملکوں کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو گیا ہے۔×