پنجاب میں پچھلے دو دن میں سیلاب سے مزید کسی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ اب صورتحال بتدریج کنٹرول میں آرہی ہے۔ پٹیالہ اور لدھیانہ کے کچھ گائوں کو چھوڑ کر، جہاں تنگڑی، مرکنڈا اور بھاکھڑا ڈیم سے چھوڑے گئے اضافی پانی کی وجہ سے حال ہی میں پانی بھر گیا تھا، دیگر علاقوں میں صورتحال کنٹرول میں ہے۔ پنجاب کے آبی وسائل کے وزیر بَریندر کمار گوئل نے آکاشوانی سے اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ آنے والے دنوں میں تیز بارش کی کوئی پیشگوئی نہیں کی گئی ہے اور اگر ڈیم سے معمول کے مطابق پانی چھوڑا گیا تو صورتحال جلد ہی قابو میں آجائے گی۔
ریاست بھر میں متاثرہ افراد کیلئے کئی میڈیکل کیمپ لگائے گئے ہیں تاکہ اُن کی جانچ وغیرہ کی جاسکے اور اُنھیں دوائیاں فراہم کی جاسکے۔ ضلع انتظامیہ، مچھر بھگانے کی دوائیں چھڑک رہے ہیں تاکہ علاقوں کو مچھروں اور دیگر کیڑے مکوڑوں سے محفوظ کیا جاسکے۔ رضاکار تنظیموں کے ساتھ بڑی تعداد میں لوگ مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ بھارتی فوج، فضائیہ، BSF اور NDRF کے ماہرین کی ٹیمیں پھنسے ہوئے لوگوں کو محفوظ مقام پر پہنچا رہی ہیں اور اُنھیں غذا اور دیگر اشیا فراہم کر رہی ہیں۔ پنجابی گلوکار بھی آگے آئے ہیں۔ دو بین وزارتی مرکزی ٹیمیں جس میں کئی وزارتوں کے افسران شامل ہیں، اِن وزارتوں میں زراعت، خزانہ، توانائی اور دیہی ترقی کی وزارتیں شامل ہیں، نے نقصان کا اندازہ لگانا شروع کردیا ہے تاکہ مرکزی حکومت کو نقصان سے متعلق رپورٹ پیش کی جاسکے۔