September 4, 2025 3:22 PM

printer

پنجاب میں لگاتار بارش ہونے، بیاس، ستلُج، راوی اور Ghaggar دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے اور بھاکڑہ، پونگ اور رنجیت ساگر ڈیم سے محدود مقدار میں اضافی پانی چھوڑے جانے کے تناظر میں ریاست میں سخت چوکسی برتی جارہی ہے۔

پنجاب میں لگاتار بارش ہونے، بیاس، ستلُج، راوی اور Ghaggar دریاؤں میں پانی کی سطح بڑھنے اور بھاکڑہ، پونگ اور رنجیت ساگر ڈیم سے محدود مقدار میں اضافی پانی چھوڑے جانے کے تناظر میں ریاست میں سخت چوکسی برتی جارہی ہے۔ ریاست کے سبھی 23 ضلعوں میں ایک ہزار 650 گاؤوں پر سیلاب کا اثر پڑا ہے اور ایک لاکھ 75 ہزار ایکڑ سے زیادہ زرعی آراضی زیر آب آگئی ہے، جس سے دھان اور دیگر فصلوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ گذشتہ دہائیوں کے اب تک کے سب سے شدید سیلاب میں 37 افراد کی موت ہوچکی ہے، جبکہ 3 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ بھارتی فوج، فضائیہ، BSF، NDRF اور غیر سرکاری تنظیمیں بھی لگاتار بچاؤ اور امدادی کارروائی زور و شور سے انجام دے رہی ہیں۔×

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔