August 31, 2025 9:48 PM

printer

پنجاب میں بچاؤ اور راحت کارروائی زور شور سے جاری ہے اُدھر جموں و کشمیر، اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور پنجاب میں سیلاب کا قہر جاری ہے۔ IMD نے ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں موسلا دھار بارش کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کیا ہے

پنجاب شدید سیلاب کی زد میں ہے، موسلادھار بارش کے ساتھ ساتھ بیاس، راوی اور گھگر سمیت ندیوں میں طغیانی کے سبب تباہیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈیموں سے پانی کا باقاعدہ اخراج بھی بحران میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔ ریاستی حکومت نے اسکولوں کی تعطیل میں بدھ کے روز تک توسیع کردی ہے۔ بچائو اور راحت کی کارروائیاں جاری ہے اور فوج، فضائیہ، BSF، این ڈی آر ایف، SDRF اور پنجاب پولیس دن رات کام کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ بھگونت مان اور پنجاب BJB سربراہ سنیل جاکھڑ نے وزیر اعظم سے مرکزی مدد کی اپیل کی ہے۔
اتراکھنڈ کے مختلف ضلعوں میں مسلسل بارش کا سلسلہ جاری ہے۔ محکمۂ موسمیات نے اگلے دو روز میں دہرہ دون، اترکاشی، باگیشور اور دیگر علاقوں میں شدید بارش کی پیشگوئی کی ہے۔ کچھ علاقوں میں زمینی تودے کھسکنے کے خوف سے ہائی الرٹ کا جاری کیا گیا ہے۔ شدید بارش اور زمینی تودے کھسکنے کی وجہ سے بند ہوئے سڑکوں کو کھولنے کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر اعلیٰ پُشکر سنگھ دھامی نے کہا ہے کہ شہریوں کی حفاظت اور سہولت، حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ 
بھارتی محکمہ موسمیات IMD نے ہماچل پردیش اور اتراکھنڈ میں کل کیلئے شدید بارش کا ریڈ الرٹ جاری کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی IMD نے اگلے دو دن کیلئے مشرقی راجستھان، ہریانہ، چنڈی گڑھ، دلّی، جموں وکشمیر، لداخ، گلگت، بلتستان، مظفرآباد، اڈیشہ،پنجاب اور اترپردیش میں الگ الگ مقامات پر شدید بارش کی پیشگوئی کی ہے۔
جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے رام بَن اور ادھمپور اضلاع کا دورہ کیا۔ یہ دورہ حال ہی میں بادَلوں کے پھٹنے، سیلاب آنے اور مٹی کے تودے کھسکنے سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لینے کیلئے تھا، جس سے جموں-سرینگر قومی شاہراہ (NH-44) پر روز مرہ کی زندگی میں شدید خلل پڑا اور نقصان ہوا ہے۔ انھوں نے ایجنسیوں کو ہدایت کی کہ وہ اہم سڑکوں کے رابطوں کو فوری طور پر بحال کریں تاکہ وادیٔ کشمیر کیلئے ٹریفک شروع ہوسکے اور ضروری اشیا کی بلا روک ٹوک فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ انھوں نے مقامی شہریوں سے بات کی، اُن کی شکایات کو سنا اور سرکار کی مکمل مدد کیلئے اُنھیں یقین دلایا۔
وزارت داخلہ نے ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب اور جموں وکشمیر کیلئے بین وزارتی مرکزی ٹیمیں IMCTs تشکیل دی ہیں۔ اس کا مقصد شدید بارش، سیلاب، بادلوں کے پھٹنے اور مٹی کے تودے کھسکنے سے ہونے والے نقصان کا جائزہ لینا ہے۔ ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ وزیر داخلہ امت شاہ کی ہدایت پر یہ ٹیمیں صورتحال کا موقعے پر ہی جائزہ لیں گی نیز متعلقہ ریاستی سرکاروں کے ذریعے کئے گئے راحت کارروائیوں کا بھی جائزہ لیں گی۔ مرکزی ٹیمیں ہماچل پردیش، اتراکھنڈ، پنجاب اور جموں وکشمیر کے سیلاب اور مٹی کے تودے کھسکنے کے واقعات سے متاثر ہونے والے اضلاع کا، اگلے ہفتے کے اوائل میں دورہ کریں گی۔ وزارت نے یہ بھی بتایا کہ وہ اِن ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سینئر افسران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور اس نے ہر طرح کی ضروری لاجسٹکس مدد فراہم کی ہے۔
اس میں قدرتی آفات کے انتظامیہ کی قومی فورس NDRF کی ٹیمیں، فوج کے عملے اور فضائیہ کے ہیلی کاپٹرس کی تعیناتی شامل ہے جو تلاش اور بچائو کی کارروائیوں میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ ضروری خدمات کی بحالی کیلئے کام کر رہے ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے دوران، حکومت نے قدرتی آفات کے انتظامیہ کے ریاستی فنڈمیں 24 ریاستوں کو 10 ہزار کروڑ روپئے سے زیادہ جاری کئے ہیں، تاکہ تباہی سے متاثر ریاستیں، متاثرہ لوگوں کو فوری طور پر راحت اور امداد فراہم کر سکیں۔ 12 ریاستوں کو قدرتی آفات کے انتظامیہ کے قومی فنڈ سے تقریباً دو ہزار کروڑ روپئے جاری کئے گئے تھے۔

 

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔