پاکستان میں مقیم اسمگلرس، پنجاب سرحد کے ذریعے بھارت میں نشیلی اشیا کے نیٹ ورک کو بڑھانے کیلئے نئے راستے استعمال کر رہے ہیں۔ پنجاب سرحد پر BSF میں اعلیٰ ذرائع کے حوالے سے ہمارے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ پاکستانی اسمگلرس، قانون کی نظروں سے بچنے کیلئے ایسے نئے چہروں کو ترجیح دے رہے ہیں جن کا، اسمگلنگ کے میدان میں ابھی تک کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ یہ لوگ بھارت میں اپنے ساتھیوں سے بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ، کوریئر کے طور پر نابالغوں کو بھرتی کریں تاکہ اگر وہ گرفتار بھی ہوجائیں تو انھیں اُن کی نابالغ عمر کی وجہ سے جیل نہ بھیجا جا سکے۔
اسی دوران سرحدی حفاظتی فورس نے ایک سخت کارروائی میں اِس سال ابھی تک، نشیلی اشیا کے 203 بھارتی اسمگلرس اور 16 پاکستانی باشندوں کو گرفتار کیا ہے، جن کا تعلق پنجاب کے زیادہ خطرے والے سرحدی اضلاع امرتسر، ترن تارن اور فیروز پور سے ہے۔ BSF نے تین پاکستانی دراندازوں کو ہلاک بھی کیا ہے۔
فوج، ایسے پاکستانی اسمگلرس کا، زمینی اور فضائی نگرانی کرکے مقابلہ کر رہی ہے جو گرفتاری سے بچنے کے لئے ڈرون اور GPS نظام کا استعمال کر رہے ہیں۔ فوج نے ڈرون شکن نظام، حرکات و سکنات کا پتہ لگانے والے سینسرس اور ایسے آلات تیار کیے ہیں، جن کے ذریعے رات کے وقت بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
فوج نے پاکستان کے 200 ڈرونز، 287 کلوگرام ہیروئن، 13کلوگرام ICE ڈرگ اور 174 ہتھیار بھی برآمد کیے ہیں جن میں AK-47، 12 ہتھ گولے اور 10 کلوگرام سے زیادہ دھماکہ خیز مادہ شامل ہے، جو اِن ڈرونز کے ذریعے بھارتی علاقے میں لایا گیا ہے۔ BSF کے ترجمان ڈپٹی انسپیکٹر جنرل اے کے ودیارتھی نے بتایا کہ گاؤں کے کچھ لوگوں کی مدد سے، اِن چھپے ہوئے دراندازوں کو تلاش کرنے کی کارروائی کے ساتھ انجام دی جا رہی ہے۔x