آج راجیہ سبھا کی کارروائی اپوزیشن کی طرف سے مختلف معاملات پر ہنگامہ آرائی کی وجہ سے دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی، جب کارروائی 12 بجے پہلی بار ملتوی کئے جانے کے بعد، دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان نے ایک بار پھر، بہار میں چنائو فہرستوں پر خصوصی تفصیلی نظرثانی پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگانے شروع کردیئے۔
صدر نشیں گھنشیام تیواری نے وقفۂ سوالات کی کارروائی چلانے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن ارکان نعرے بازی کرتے رہے۔ شور وغل کے دوران، صدر نشیں نے ایوان کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی۔ اب یہ کارروائی 11 اگست کو پھر شروع ہوگی۔
اس سے پہلے جب راجیہ سبھا کی کارروائی دن میں 11 بجے شروع ہوئی تو ایوان کی طرف سے اُن مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کیا گیا جنھوں نے بھارت چھوڑو تحریک کے دوران آزادی کیلئے لڑائی لڑی تھی۔
نائب چیئرمین ہری ونش نے کہا کہ کَل 9 اگست ہے جب تاریخی بھارت چھوڑو تحریک کا 83واں سال پورا ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تحریک 1942 میں مہاتما گاندھی نے شروع کی تھی، جو برطانوی نوآبادیاتی حکمرانی کے خاتمے کیلئے ایک فیصلہ کن اور طاقتور آواز تھی۔
نائب چیئرمین نے کہا کہ مختلف سیاسی پارٹیوں کی طرف سے مختلف معاملات پر، کارروائی معطل کرنے کے 20 نوٹس موصول ہوئے تھے لیکن اِنھیں مسترد کردیا گیا۔
انھوں نے اپوزیشن ارکان سے اپیل کہ وہ اپنی اپنی نشستوں پر واپس چلے جائیں اور ایوان کی کارروائی چلنے دیں، ہری ونش نے کہا کہ راجیہ سبھا لگاتار رخنہ اندازی کے سبب 56 گھنٹے سے زیادہ وقت ضائع ہوچکا ہے۔ جب ہنگامہ جاری رہا تو نائب چیئرمین نے ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کیلئے ملتوی کردی۔
لوک سبھا کی کارروائی بھی مختلف معاملات پر اپوزیشن کی طرف سے شور وغل کی وجہ سے دوپہر تین بجے تک کیلئے ملتوی کی گئی۔ جب ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کیلئے ملتوی کئے جانے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ارکان نے SIR پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج شروع کردیا۔