پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس کَل شروع ہو رہا ہے۔ اجلاس سے قبل، آج حکومت نے تمام پارٹیوں کی میٹنگ کی۔ اس کا مقصد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں معمول کی کارروائیوں کیلئے اپوزیشن پارٹیوں کا تعاون حاصل کرنا تھا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں نمائندگی کر رہے مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے اِس میٹنگ میں شرکت کی۔
مرکزی وزیر اور راجیہ سبھا میں ایوان کے لیڈر جے پی نڈّا نے اِس میٹنگ کی صدارت کی۔ اس میٹنگ میں پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو، پارلیمانی امور کے وزراء مملکت ارجن رام میگھوال اور ڈاکٹر ایل مروگن بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ، کانگریس کے گورو گگوئی اور پرمود تیواری، NCP-SCP کی سپریاسولے، DMK کے Tiruchi Siva، سماجوادی پارٹی کے رام گوپال یادو، DMK کے ٹی آر بالو اور عاپ کے سنجے سنگھ نے بھی میٹنگ میں شرکت کی۔میٹنگ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ یہ میٹنگ بہت مفید رہی اور ایوان کے لیڈروں نے اپنی پارٹیوں کی پوزیشن اور وہ معاملات سامنے رکھے جو وہ اِس اجلاس میں اٹھانا چاہتے ہیں۔
جناب رجیجو نے کہا کہ حکومت پارلیمنٹ میں، آپریشن سندور جیسے کلیدی معاملات پر بحث کیلئے پوری طرح تیار ہے۔ آپریشن سندور کے بعد، بھارت اور پاکستان کے درمیان ثالثی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کو ایوان میں پیش کرنے کے اپوزیشن کے ارادے کے بارے میں پوچھے جانے پر، وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر ایوان میں مناسب جواب دے گی۔
جسٹس ورما کو ماخوذ کرنے سے متعلق میڈیا کے سوال کا جواب دیتے ہوئے، جناب رجیجو نے کہا کہ کیونکہ یہ صرف حکومت کا ہی اقدام نہیں ہے، اِس لئے اس ضمن میں تمام پارٹیوں کے ذریعے ایک ساتھ کارروائی کی جائے گی۔ جسٹس ورما کو ہٹانے کی تحریک کو پہلے ہی قانون سازوں کی طرف سے نمایاں حمایت حاصل ہوچکی ہے۔ جناب رجیجو نے کہا کہ جسٹس ورما کو ہٹانے کی تحریک کیلئے ارکانِ پارلیمنٹ کے دستخطوں کی تعداد پہلے ہی 100 سے زیادہ ہوچکی ہے۔
اسی دوران، کانگریس کے لیڈر گورو گگوئی نے، پہلگام دہشت گرد حملے، امریکی صدر ٹرمپ کے بیانات اور بہار میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی پر ایوان میں وزیر اعظم کے بیان کا مطالبہ کیا۔
ہمارے نمائندے نے خبر دی ہے کہ مانسون اجلاس کے دوران بہت سے کلیدی قوانین بحث کیلئے پیش کئے جائیں گے۔
اجلاس کے دوران، توقع ہے کہ جن وِسواس (گنجائشوں کی ترمیم) بل 2025، کھیل کود کے انتظام سے متعلق قومی بل 2025 اور مرچنٹ شپنگ بل 2024 سمیت اہم قوانین پر بحث کی جائے گی اور اِنھیں پاس کیا جائے گا۔
جناب رجیجو نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن سے اِس بات کو یقینی بنانے کی درخواست کی کہ دونوں ایوانوں کی باقاعدہ اور معمول کی کارروائی جاری رہے۔ انھوں نے کہا کہ حزب اقتدار اور حزب اختلاف، دونوں کو اچھے تال میل کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔ مانسون اجلاس کا آغاز کَل ہوگا اور یہ21 اگست تک جاری رہے گا۔ اجلاس کے دوران دونوں ایوانوں کے مجموعی طور پر21 اجلاس ہوں گے۔