راجیہ سبھا میں سینٹرل ایکسائز (ترمیمی) بل 2025 کو منظوری ملنے اور اسے واپس لوک سبھا بھیجنے کے ساتھ ہی آج پارلیمنٹ نے اِس بل کو منظوری دے دی۔ اس قانون کا مقصد سینٹرل ایکسائز قانون 1944 میں ترمیم کرنا ہے۔ اس میں خاص طور پر سگریٹ، سِگار، حقہ تمباکو، کھانے والا تمباکو، زردہ اور خوشبودار تمباکو جیسی تمباکو کی مصنوعات پر ایکسائز ڈیوٹی اور محصول میں اضافہ کرنا ہے۔ اس ترمیم سے حکومت کو تمباکو اور تمباکو کی مصنوعات پر سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرحوں میں اضافہ کرنے کی مالی گنجائش فراہم کرنا ہے تاکہ محصول کا سلسلہ ختم ہونے کے بھی ٹیکس کی رقوم کی حصولیابی کو برقرار رکھا جاسکے۔ خزانے کے وزیر مملکت پنکج چودھری نے بل پیش کیا۔ اِس بل میں غیر تیار شدہ تمباکو، تیارشدہ تمباکو، تمباکو کی مصنوعات اور تمباکو سے تیار ہونے والی دیگر اشیا پر سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔سینٹرل ایکسائز قانون 1944 ایک ہزار سگریٹوں پر 200 روپئے سے 735 روپئے کے درمیان ایکسائز ڈیوٹی عائد کرتا ہے، جبکہ اِس بل کے تحت اضافہ شدہ ڈیوٹی کے مطابق ایک ہزار سگریٹوں پر دو ہزار روپئے سے 11 ہزار روپئے تک کی ڈیوٹی لگائی جائے گی۔ یہ بل تیار شدہ تمباکو کی مصنوعات پر زیادہ ایکسائز ڈیوٹی بھی عائد کرتا ہے۔ مثال کے طور پر کھانے والے تمباکو پر ڈیوٹی 25 فیصد سے بڑھ کر 100 فیصد کی جائے گی۔ اِس بل کا مقصد لوگوں کو تمباکو کے مضمر اثرات سے بچانا اور اِس کے استعمال کیلئے اُن کی حوشلہ شکنی کرنا ہے۔ راجیہ سبھا میں بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ سگریٹوں پر اضافہ شدہ ڈیوٹی کو ریاستوں کے ساتھ اشتراک کیا جائے گا۔
Site Admin | December 4, 2025 9:40 PM
پارلیمنٹ نے سینٹرل ایکسائز ترمیمی بل 2025 کو منظوری دے دی ہے۔