وینیزویلا کے صدر Nicolas Maduro اور اُن کی اہلیہ، خاتون اوّل Cilia Flores نیویارک میں ہیں اور Brooklyn میں ایک حراستی سینٹر میں بھیج دیا گیا ہے۔

وینیزویلا کے صدر Nicolas Maduro اور اُن کی اہلیہ، خاتون اوّل Cilia Flores نیویارک میں ہیں اور Brooklyn میں ایک حراستی سینٹر میں بھیج دیا گیا ہے۔ Nilcolas اور اُن کی اہلیہ کو Manhattan فیڈرل کورٹ میں منشیات اور ہتھیاروں کے الزامات کا سامنا ہے۔ اُن پر Narco دہشت گردی کا ارتکاب کرنے اور کوکین درآمد کرنے کے علاوہ امریکہ کے خلاف مشین گن اور تباہ کُن آلات رکھنے کی سازش رچنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اُن کی ہدایت میں وینیزویلا کی راجدھانی Caracas میں ایک غیر معمولی فوجی کارروائی انجام دی گئی اور اُس کے لیڈر صدر Nicolas Maduro جنہیں اُن کی اہلیہ کے ساتھ گرفتار کیا گیا ہے، ملک سے باہر لے جایا گیا ہے۔

فلوریڈا میں صدر ٹرمپ کی Mar-a-Lago رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ امریکہ اُس وقت تک وینیزویلا کا نظام چلائے گا، جب تک کہ بقول اُن کے وہاں ایک محفوظ، مناسب اور  اقتدار کی منصفانہ منتقلی نہیں ہو جاتی۔

امریکی صدر نے یہ الزام بھی لگایا کہ وینیزویلا غیر قانونی منشیات کا ایک بڑا وسیلہ ہے، جہاں سے امریکہ میں منشیات کی سپلائی ہوتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائی سے سمندر کے راستے منشیات کی اسمگلنگ میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ وینیزویلا کے تیل اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں کو دوبارہ منظم کرنے میں مدد کرے گا۔

دوسری جانب وینیزویلا کی اپوزیشن لیڈر اور نوبیل امن انعام یافتہ Maria Corina Machado نے کہا ہے کہ وینیزویلا میں آزادی کی گھڑی آگئی ہے۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں Machado نے کہا کہ Nicolas Maduro کو وینیزویلا کے عوام اور کئی دیگر ملکوں کے شہریوں کے خلاف کیے گئے سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے کیلئے بین الاقوامی انصاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ×

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔