وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے کہا ہے کہ دنیا اب کم مغربی اور زیادہ متنوع، زیادہ عالمگیر اور زیادہ سے زیادہ ایشیائی بھی ہو رہی ہے۔ ڈنمارک کے کوپن ہیگن میں ایک خبر رساں ایجنسی کے ساتھ انٹرویو میں وزیر موصوف نے کہا کہ نئے عالمی نظام کے خاکے نے شکل وصورت اختیار کرنی شروع کردی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ دنیا بتدریج ایک نئے توازن کو قائم ہوتے دیکھ رہی ہے۔ انھوں نے اِس بات کو اجاگر کیا کہ 2008 کا عالمی اقتصادی بحران ایک بڑی تبدیلی لانے والا بحران تھا کیونکہ اس نے یہ دکھا دیا کہ مغربی ممالک اِس کو اکیلے ہی حل نہیں کرسکتے۔پہلگام دہشت گردانہ حملے کے معاملے پر پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر جئے شنکر نے مضبوطی کے ساتھ کہا کہ یہ ایک دہشت گردانہ حملہ تھا اور یہ کشمیر کے معاملے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان کا کوئی تنازعہ نہیں تھا۔ انھوں نے مزید وضاحت کی کہ دہشت گردی، آب وہوا کی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی غریبی کے ساتھ ساتھ عالمی چیلنجوں میں سے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ڈاکٹر جئے شنکر نے مزید کہا کہ 1947 میں آزادی کے بعد سے کشمیر میں پاکستان کی جانب سے بھارت کی سرحدوں کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ روس کی توانائی کے بارے میں ڈاکٹر جئے شنکر نے بتایا کہ یوروپ، روس پر عائد پابندیوں کے باوجود اُس سے اب بھی توانائی درآمد کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ساتھ ساتھ یوروپ، بھارت سمیت سبھی ترقی پذیر ممالک کیلئے توانائی کی قیمتوں کو طے کرنے میں پیش پیش ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل عہد اور ڈاٹا پر مبنی وجود آنے والے وقت میں معمولی سی معمولی تفصیل کے تعلق سے ہر فردِ واحد کو متاثر کریں گے۔بھارت اور یوروپ مل کر کام کرنے میں ایک خاص مضبوط دلچسپی رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی میں ایسی قوت ہے کہ وہ اُس نئے عالمی نظام کو شکل وصورت دے سکتی ہے جو اکیسویں صدی میں ابھر رہا ہے۔
Site Admin | May 23, 2025 9:47 PM
وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے کہا ہے کہ دنیا اب کم مغربی اور زیادہ متنوع، زیادہ عالمگیر اور زیادہ سے زیادہ ایشیائی بھی ہو رہی ہے