وزیر اعظم نریندر مودی کے سرگرم حکمرانی اور بروقت نفاذ ”PRAGATI“ کیلئے اہم پلیٹ فارم نے اپنی 50 ویں میٹنگ کے کامیاب انعقاد کے ساتھ ایک زبردست اور غیر معمولی سنگِ میل عبور کیا ہے۔ 2015 میں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اس کو شروع کیے جانے کے بعد سے ”PRAGATI“ نے وزیر اعظم کے براہِ راست جائزہ کے ذریعے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں اور عوامی شکایات کے ازالے کے حل اور بروقت نگرانی کے ذریعے حکمرانی کی کایا پلٹ کی ہے۔ اس پلیٹ فارم نے امدادِ باہمی پر مبنی وفاقیت کو مثالی بنایا ہے۔ مرکز، ریاستوں اور مرکزی وزارتوں کو ایک واحد ڈیجیٹل انٹرفیس کو یکجا کیا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں ”PRAGATI“ کے سبب فیصلے کرنے میں تیزی لانے، کلیدی بنیادی دھانچے کے پروجیکٹوں میں تاخیر کے مسئلوں کو حل کرنے میں مدد ملی ہے اور جوابدہی کے ایک مضبوط کلچر پیدا کیا ہے۔
آج اس خصوصی سیریز میں ہماچل پردیش میں پربتی دوئم کے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
Parbati دوئم ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ ندی کے بہاؤ کا ایک ہائیڈرو پاور اسٹیشن ہے، جسے ہماچل پردیش کے کلّو ضلعے میں Parbati دریا پر NHPC لمیٹڈ کے ذریے تیار کیا گیا ہے۔ یہ بھارت کا سب سے پیچیدہ تکنیکی اور حکمت عملی کے اعتبار سے اہم ہائیڈرو پاور ترقیاتی پروجیکٹ ہے۔ Parbati دوئم اس لیے ”ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ سالانہ لگ بھگ 3 ہزار 74 ملین یونٹ بجلی پیدا کی جا سکے۔ ناردرَن گرڈ کیلئے قابلِ بھروسہ قابلِ تجدید بجلی سپلائی کی جا سکے اور اس سے کئی ریاستوں کو فائدہ ہو۔
اِن ریاستوں میں ہماچل پردیش، دلّی، جموں و کشمیر، پنجاب، ہریانہ، راجستھان، اترپردیش، اتراکھنڈ، مغربی بنگال، چھتیس گڑھ اور مرکز کے زیر انتظام علاقہ چنڈی گڑھ شامل ہیں۔
انتہائی کمزور ہمالیائی جغرافیائی صورتحال کی وجہ سے زیر زمین سرنگ کے کام میں تاخیر ہوئی، جس کی وجہ سے پروجیکٹ کی مجموعی تعمیر میں کافی رخنہ پڑا۔ 17 فروری 2016 کو پرگتی میکانزم کے تحت وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اس معاملے کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نے ہماچل پردیش سرکار کو ہدایت دی کہ وہ ترجیحی بنیاد پر تحویل میں لی گئی زمین کا مکمل استعمال کریں۔ انہوں نے بجلی کی وزارت اور NHPC کو یہ بھی ہدایت دی کہ وہ تعمیر کے کام میں خاطر خواہ تیزی لائیں۔ پچھلے سال 16 اپریل کو چوتھے یونٹ کے شروع ہونے کے بعد سے بجلی پیدا کرنے والے چار میں سے تین یونٹ کمرشل طور پر چالو ہو ئے ہیں۔