وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت، سیوا اور سُساشن یعنی عوامی خدمات اور اچھی حکمرانی کے منتر کی روشنی میں یکسر تبدیلی اور ترقی کیلئے انتھک کام کرتی رہی ہے۔آج کی اس خصوصی سیریز میں ہم بتا رہے ہیں کہ کس طرح مودی حکومت نے آپریشن سندور کے ذریعے ملکی سلامتی، فوجی قوت اور دیسی ٹیکنالوجی میں مہارت کے غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔
آج کا بھارت نہ صرف امن پسند ملک بلکہ ایک مضبوط، فیصلہ کن اور تکنیکی طور پر خود کفیل عالمی قوت کے طور پر جانا جاتا ہے۔لوک سبھا میں آپریشن سندور پر خصوصی بحث کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کے یہ الفاظ عالمی سطح پر بھارت کی بدلتی ہوئی تصویر کو مزید واضح کرتے ہیں۔22 اپریل کو جموں وکشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارت نے چھ اور سات مئی کی نصف شب میں آپریشن سندور کی شروعات کی تھی۔ بھارتی فوج نے مختصر وقت میں پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر کے 9 دہشت گردانہ ٹھکانے کو تباہ کردیئے تھے۔ پیغام واضح تھا: بھارت نے ضرورت پڑنے پر تیز اور درست کارروائی کی ہے۔آپریشن سندور کے دوران بھارتی مسلح افواج کی قوت اور تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کیا تھا۔ بھارت میں تیار فضائی دفاعی نظام اور برہموس میزائل نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا جبکہ دیسی ڈرونز اور اے آئی پر مبنی نظام نے بے مثال صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان کے دفاعی نظام اور اہم اسٹرٹیجک تنصیبات کی تباہی، بھارت کی بڑھتی ہوئی فوجی قوت کا ثبوت ہے۔کانپور سے تعلق رکھنے والے شبھم دویدی کی اہلیہ جن کے شوہر کی پہلگام دہشت گردانہ حملے میں موت ہوگئی تھی، نے آپریشن سندور شروع کرنے کیلئے وزیر اعظم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اسے اپنے آنجہانی شوہر کی قربانی کیلئے ایک خراج عقیدت بتایا۔
آپریشن سندور نہ صرف بھارت کی فوجی اور تکنیکی قوت کا مظاہرہ تھا بلکہ انصاف کی ایک نئی صورت کا بھی مظاہرہ تھا۔ جیسا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے بلکہ اسے ابھی کیلئے روکا گیا ہے۔ اور اگر پاکستان کی مدد سے دوبارہ کوئی دہشت گردانہ حملہ ہوتا ہے تو بھارت اس سے بڑا حملہ کرکے اس کا جواب دے گا۔