وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ گزشتہ ہزار سال سے سومناتھ مندر کی بقاء ملک کے شاندار ثقافتی جذبے کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار بار کے حملوں اور بہت زیادہ نامواقف حالات کے باوجود سومناتھ مندر آج بھی مضبوطی سے قائم ہے۔
سال ایک ہزار 26 میں سومناتھ مندر پر کیے گئے پہلے حملے کے ایک ہزار سال ہونے کی مناسبت سے تحریر کیے گئے ایک Op-Ed مضمون میں وزیر اعظم نے کہا کہ سومناتھ کا نام سنتے ہی لوگوں کا دل و دماغ فخر سے سرشار ہو جاتا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ یہ عظیم الشان مندر گجرات میں ملک کے مغربی ساحل پر واقع ہے۔ اِس مقام کو Prabhas Patan کہا جاتا ہے۔
اُس وقت کو یاد کرتے ہوئے جب سومناتھ مندر پر غیر ملکی حملہ آوروں نے حملہ کیا تھا، وزیر اعظم نے کہا کہ جنوری ایک ہزار 26 میں محمود غزنی نے اس مندر پر حملہ کیا تھا جو ایک پُر تشدد اور وحشیانہ حملے کے ذریعے عقیدے اور تہذیب کی ایک عظیم علامت کو تہس نہس کرنا چاہتا تھا۔ جناب مودی نے کہا کہ آج ایک ہزار سال بعد بھی یہ مندر اپنی عظمت کی بحالی کیلئے کی گئی بے شمار کوششوں کی بدولت اپنی پوری شان کے ساتھ قائم ہے۔
سومناتھ مندر کی بحالی کیلئے کام کرنے والوں کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ 2026 میں ایک اور اہم سنگ میل طے ہوگا، کیونکہ بحال کیے گئے مندر کو عقیدتمندوں کیلئے کھولے جانے کے 75 سال مکمل ہوجائیں گے۔
جناب مودی نے کہا کہ مئی 1951 میں، اُس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد کی موجودگی میں بحال شدہ سومناتھ مندر کے دروازے دوبارہ کھولے گئے تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ آزادی کے بعد سومناتھ مندر کی تعمیرِ نو کی پوِتر ذمہ داری سردار ولبھ بھائی پٹیل کے ہاتھ آئی۔ جناب مودی نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ 1947 میں دیوالی کے دوران سردار پٹیل جب اُس مقام پر گئے تو اُن کے دل پر گہرا اثر پڑا، اور اِس کے نتیجے میں اسی مقام پر مندر کو دوبارہ بنانے کا فیصلہ کیا۔
وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ سومناتھ آج بھی لوگوں کے دل و دماغ کو بیدار کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ماضی کے حملہ آور خاک میں مل گئے ہیں اور انہیں صرف بربادی کیلئے یاد کیا جاتا ہے۔
وزیر اعظم نے اُجاگر کیا کہ دنیا بھارت کی جانب پُرامیدی کی نظروں سے دیکھ رہی ہے اور اِس کے نوجوانوں کی اختراعی صلاحیت میں سرمایہ لگانا چاہتی ہے۔
جناب مودی نے کہا کہ بھارت کا آرٹ، ثقافت، موسیقی اور کئی فیسٹیول عالمی سطح پر مقبول ہو رہے ہیں اور یوگ اور آیوروید صحت مند زندگی کو فروغ دیتے ہوئے دنیا بھر میں اپنا اثر دکھا رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سب سے اہم عالمی چیلنجوں میں سے کچھ مسائل کا حل بھی ملک سے ہی نکل رہا ہے۔×