وزیر اعظم نریندر مودی نے آسام کے اپنے دو روزہ دورے میں بہت سے ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد رکھا، جن کی لاگت 18 ہزار کروڑ روپئے ہے۔ انھوں نے کَل گواہاٹی میں، معروف موسیقار، بھارت رتن ڈاکٹر بھوپین ہزاریکا کے یومِ پیدائش کی صد سالہ تقریبات میں بھی شرکت کی۔
آج صبح جناب مودی، دارانگ ضلعے میں منگل دوئی بھی گئے جہاں انھوں نے دارانگ میڈیکل کالج، نرسنگ کالج اور ایک GNM اسکول کا سنگ بنیاد رکھا۔ سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت، دنیا میں سب سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی ایک بڑی معیشت ہے اور آسام، ملک کی سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت ہے۔
جناب مودی نے کہا کہ ملک کی آزادی کے بعد صنعتی شعبے کی ترقی سب سے زیادہ جنوبی اور مغربی ریاستوں میں ہوئی لیکن شمال مشرق کا یہ خطہ، تبدیلی سے محروم رہا، لہٰذا اب وقت ہے کہ شمال مشرق، ترقی کرے اور مرکز، کنکٹی ویٹی کے شعبے کیلئے کام کر رہا ہے کیونکہ اِسی شعبے سے، اِس علاقے کی ترقی ہوسکتی ہے۔
وزیر اعظم نے شہریوں سے، ووکل فار لوکل کیلئے زور دے کر کہا۔ انھوں نے برہم پُتر دریا پر ایک نئے پُل کی تعمیر کا، ورچوئل وسیلے سے آغاز کیا۔ یہ پُل گواہاٹی کے Narengi اور دارانگ کے Kuruwa سے ملاتی ہے، نیز یہ اِسی جگہ سے گواہاٹی رِنگ روڈ پروجیکٹ کو بھی جوڑتی ہے۔
بعد میں وزیر اعظم نے گولا گھاٹ ضلعے میں نُمالی گڑھ ریفائنری کا دورہ کیا جہاں انھوں نے بانس پر مبنی، بھارت کی پہلی بایو ریفائنری کا افتتاح کیا۔جناب مودی نے اِس موقعے پر ایک عوامی ریلی سے خطاب بھی کیا۔ اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ بھارت توانائی کے شعبے میں خودکفیل بننے کے مشن پر ہے اور وہ غیرملکی ایندھن پر اپنے انحصار میں کمی لا رہا ہے۔وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ بھارت گہرے سمندری توانائی کے اپنے وسائل کو فروغ دے گا اور توانائی کی اپنی خودکفالت کو مستحکم بنائے گا۔ یہ بایو ایتھانول پلانٹ، اِسی مقصد کی جانب ایک قدم ہے۔وزیراعظم شام کو مغربی بنگال میں کولکتہ پہنچ جائیں گے۔