May 27, 2025 3:38 PM

printer

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ آپریشن سندور صرف مسلح افواج کی ہی نہیں، بلکہ ہر بھارتی کی ذمہ داری ہے۔

وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ حالیہ واقعات نے ثابت کردیا ہے کہ بھارت کے خلاف نام نہاد درپردہ جنگ حقیقت میں ایک منظم جنگی حکمتِ عملی ہے۔ گجرات کے گاندھی نگر میں مہاتما مندر میں ایک جلسہئ عام سے خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ 6 مئی کے واقعات کے بعد بھارت کو دہشت گردی کی سرگرمیوں کے ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ثبوت اب خود سرحد کے اُس پار سے فراہم کئے جارہے ہیں۔

وزیرِ اعظم نے واضح کیا کہ مارے گئے دہشت گردوں کو پاکستان میں سرکاری اعزازات دیئے گئے اور اُن کے تابوتوں پر قومی پرچم لگایا گیا اور پاکستانی فوج کی طرف سے انہیں سلامی دی گئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ پوری طرح واضح ہوتا ہے کہ یہ الگ سے دہشت گردی کی کارروائیاں نہیں ہیں بلکہ ایک مربوط فوجی حکمتِ عملی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ بھارت کسی کے ساتھ دشمنی کا خواہاں نہیں ہے بلکہ یہ امن سے رہنے کا خواہشمند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ایسی ترقی کا خواہشمند ہے کہ جس میں وہ دنیا کی فلاح و بہبود کیلئے تعاون دے اور حکومت لاکھوں بھارتیوں کی ترقی اور انہیں اوپر اٹھانے کیلئے پورے عزم کے ساتھ کام کررہی ہے۔ ماضی کے غلط پالیسی اقدامات کو اجاگر کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے نوجوان نسل سے اپیل کی کہ وہ اُن تاریخی فیصلوں کا مطالعہ کریں، جنہوں نے مقامی مفادات کو نقصان پہنچایا۔ 1960 کے سندھ آبی سمجھوتے کا ذکر کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ جموں و کشمیر میں باندھوں کو صاف نہیں کیا جائے گا اور اُن کی گاد نہیں نکالی جائے گی۔

 انہوں نے کہا کہ گاد نکالنے کیلئے مخصوص دروازوں کو دہائیوں تک بند رکھنے کا حکم دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ آبی ذخائر، جو کبھی پوری گنجائش تک بھرے ہوتے تھے، اب اُن میں آبی ذخیرہ کم ہوکر محض دو یا تین فیصد رہ گیا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔