وزیر اعظم نریندر مودی اور آسیان رہنماؤں نے آسیان-بھارت تعلقات کا، مشترکہ طور پر جائزہ لیا اور جامع اہم شراکت داری کو مستحکم کرنے کے اقدامات پر تبادلہئ خیال کیا۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں آسیان اتحاد، آسیان کی مرکوزیت اور بھارت بحرالکاہل سے متعلق آسیان خاکے کے تئیں بھارت کی حمایت کو دوہرایا۔ انہوں نے آسیان کمیونٹی ویژن 2045 کو منظور کرنے پر آسیان کی ستائش کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آسیان-بھارت FTA کا جلد جائزہ لیے جانے سے ہمارے عوام کے فائدے کے لیے، ہمارے تعلقات کی پوری اقتصادی صلاحیت بروئے کار آئے گی اور علاقائی تعاون مزید مستحکم ہوگا۔ جناب مودی نے یہ بھی کہا کہ دہشت گردی عالمی امن و سلامتی کو درپیش ایک سنگین چیلنج ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اتحاد کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں آسیان-بھارت جامع اہم شراکت داری 2026-2030 پر عمل درآمد کے تئیں حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے ایک محفوظ سمندری ماحول کے لیے آسیان-بھارت وزراء دفاع کی دوسری میٹنگ اور آسیان-بھارت دوسری سمندری مشقوں کے انعقاد کی تجویز پیش کی۔ وزیر اعظم نے آسیان بجلی گرِڈ کی پہل میں مدد دینے کیلئے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں 400 پیشہ ور افراد کو تربیت دینے کا اعلان کیا۔ جناب مودی نے کہا کہ بھارت پڑوس میں بحران کے وقت میں کارروائی کرنے والے پہلے ملک کے طور پر اپنے رول کو جاری رکھے گا اور قدرتی آفات کی صورت میں تیاریوں کے دوران نیز انسانی ہمدردی کی بنیادی والی مدد اور راحت کے سلسلے میں اپنے تعاون کو مزید مستحکم کرے گا۔×