وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ممبئی میں India Maritime Week 2025 میں بحری رہنماؤں کے کانکلیو سے خطاب کیا اور عالمی بحری CEO فورم کی صدارت کی۔ اِس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہ بھارت کی ترقی میں بحری شعبہ اہم رول ادا کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دہائی میں اِس شعبے میں یکسر تبدیلی آئی ہے، جس سے تجارت اور بندرگاہوں سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ بحری شعبہ صحیح رفتار اور توانائی سے پیش رفت کررہا ہے اور بھارت کے جہاز رانی کے شعبے کے سلسلے میں کام کرنے اور اُسے وسعت دینے کا یہ صحیح وقت ہے۔
کانکلیو میں جہاز رانی کے شعبے سے متعلق مختلف پروجیکٹوں کے آغاز کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے اِس بات کو اجاگر کیا کہ اِس شعبے میں لاکھوں کروڑ روپے مالیت کے مفاہمت ناموں پر بھی دستخط کیے گئے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اِس کانکلیو میں 85 ممالک کے شرکاء کی موجودگی اُن کے مشترکہ عزم کی ایک علامت ہے۔
جناب مودی نے کہا کہ جہازوں کی تیاری میں بھارت نئی بلندیاں حاصل کرنے کی اپنی کوششوں میں تیزی لارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ایک صدی پرانے نو آبادیاتی جہاز رانی قوانین کو 21 ویں صدی کیلئے موزوں جدید اور مستقبل پر مبنی قوانین سے تبدیل کردیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی بندرگاہوں کا شمار ترقی پذیر دنیا میں سب سے موثر کے طور پر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی معاملات میں وہ ترقی یافتہ ممالک سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔
وزیر اعظم نے اِس بات کو اجاگر کیا کہ عالمی کشیدگی، تجارت میں حائل رکاوٹوں اور بدلتی ہوئی سپلائی چین کے درمیان بھارت، کلیدی خود مختاری، امن اور سب کی شمولیت والی ترقی کی ایک روشن مثال ہے۔
اِس موقع پر وزیر اعظم نے 2 اعشاریہ دو لاکھ کروڑ روپے کے اقدامات کا آغاز بھی کیا، جن کا مقصد بھارت کی بحری اور جہاز سازی کی صلاحیتوں کو مستحکم کرنا ہے۔
اِس موقع پر مرکزی وزارء سربانند سونووال، شانتنو ٹھاکر اور کیرتی وردھن سنگھ، مہاراشٹر کے گورنر آچاریہ دیورت اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنوس بھی موجود تھے۔