وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ایک بار پھر کہا ہے کہ ملک کو خودکفیل بنانے کا واحد راستہ، سودیشی چیزوں کو خریدنا ہے۔ آکاشوانی پر اپنے، من کی بات پروگرام میں وزیر اعظم نے لوگوں سے زور دے کر کہا کہ وہ آئندہ تہواروں کی تقریبات سودیشی اشیا کے ساتھ منائیں اور ووکل فار لوکل کو اپنا طریق کار بنائیں۔ انھوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ ملک میں ہی تیار کی گئی چیزوں کو خریدنے کا عزم کریں۔
جناب مودی نے اِس بات پر زور دیا کہ تہواروں کے دنوں میں صفائی ستھرائی محض گھروں تک محدود نہ رہے بلکہ یہ سڑکوں، پڑوس، بازاروں اور گائووں میں بھی ہونی چاہئے۔ گاندھی جینتی کا ذکر کرتے ہوئے جو 2 اکتوبر کو منائی جائے گی، وزیر اعظم نے کہاکہ مہاتما گاندھی نے ہمیشہ سودیشی اختیار کرنے پر زور دیا اور اِن اشیا میں کھادی سب سے زیادہ نمایاں ہے۔انھوں نے کہا کہ پچھلے 11 سال میں کھادی کی جانب ملک کے کافی زیادہ لوگ راغب ہوئے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی بیٹیاں، تجارت سے لے کر کھیل کود تک اور تعلیم سے لے کر سائنس تک، ہر میدان میں ایک نقش قائم کررہی ہیں۔ جناب مودی نے بھارتی بحریہ کی دو بہادر افسران کے کارناموں کا خاص طور پر ذکر کیا جو ناویکاساگر پریکرما کے دوران آٹھ مہینے تک سمندر میں رہی تھیں۔
آج کے من کی بات پروگرام میں وزیر اعظم نے لیفٹیننٹ کمانڈر دِلنا اور لیفٹیننٹ کمانڈر روپا کا ذکر کیا۔ انھوں نے یہ کہتے ہوئے اُن کے تجربات کا ذکر کیا کہ ایسا موقع زندگی میں ایک ہی بار آتا ہے۔
وزیر اعظم نے آئندہ وجے دشمی تہوار کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اور وجہ سے بھی خصوصیت کا حامل ہے۔ اِس دن راشٹریہ سویم سیوک سَنگھ قیام کے 100 سال پورے ہو رہے ہیں۔ جناب مودی نے خاص طور پر کہا کہ100 سال کا یہ سفر ایک حیرت انگیز اور بے مثال سفر ہے کیونکہ اس سے تحریک حاصل ہوتی ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ ’من کی بات‘ کے اِس 126ویں نشریے کی خصوصی اہمیت ہے کیونکہ آج مجاہد آزادی بھگت سنگھ اور گلوکارہ لتامنگیشکر کا یومِ پیدائش ہے۔ انھوں نے یہ کہتے ہوئے بھگت سنگھ کو خراجِ عقیدت پیش کیا کہ وہ ایک لافانی شہید ہیں جن سے ملک کے ہر شہری کو جذبہ فراہم ہوتا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے لتامنگیشکر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اُن کے گیت ہمیشہ انسانی جذبات کو بیدار کرتے رہیں گے اور اُن کے وطن پرستی کے گانوں سے لوگوں کو زبردست تحریک ملتی ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ لتامنگیشکر، ویرساورکر سے کافی متاثر تھیں، جنھیں وہ تاتیا کہتی تھیں۔
وزیر اعظم نے فلسفی ایس ایل بھائیرپّا کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا جن کا کچھ دن پہلے ہی انتقال ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اُن کے کام سے نوجوان نسل کی سوچ کو رہنمائی ملتی رہے گی۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اُن کے کنّڑ کام کے کئی ترجمے بھی دستیاب ہیں۔