وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ایران کے صدر مسعود Pezeshkian سے بات چیت کی اور ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری لڑائی میں حالیہ تیزی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں جناب مودی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ انھوں نے موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ وزیر اعظم مودی نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فوری کشیدگی کم کی جائے، مذاکرات اور ڈپلومیسی کا راستہ اختیار کیا جائے اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام جلد بحال کیا جائے۔ صدر Pezeshkian نے خطے میں موجودہ صورتحال کے بارے میں وزیر اعظم مودی کو تفصیلی جانکاری دی۔ جناب مودی نے ان سے کہا کہ بھارت امن اور انسانیت کا طرفدار ہے۔ وزیر اعظم نے بھارتی برادری کی بحفاظت واپسی کیلئے ایران کی طرف سے دی جانے والی مدد کیلئے بھی صدر Pezeshkian کا شکریہ ادا کیا۔ دونوں رہنمائوں نے تجارت اور اقتصادی اشتراک، سائنس وٹیکنالوجی اور عوام سے عوام کے درمیان رابطوں سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مستحکم کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کے مشترکہ عہد کا اعادہ کیا۔
اس سے پہلے آج صبح قوم سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ حملے کا مقصد ایران کی نیوکلیائی افزودگی اور دہشت گردی کی سرکاری اعانت کرنے والے دنیا کے نمبر ایک ملک کی جانب سے درپیش نیوکلیائی خطرے کو روکنا تھا۔ اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک ویڈیو پیغام میں ایران کی نیوکلیائی تنصیبات پر حملہ کرنے کے فیصلے پر امریکی صدر ٹرمپ کو یہ کہتے ہوئے مبارکباد دی ہے کہ اس سے تاریخ بدل جائے گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ آپریشن Rising Lion کے تحت اسرائیل نے واقعی حقیقت میں شاندار کارنامہ انجام دیا ہے۔ اسرائیل کی دفاعی فورسز نے کہا ہے کہ وہ ایران پر خاص طور سے Fordow میں افزودگی کی تنصیب پر امریکی حملوں کے نتائج کا جائزہ لے رہی ہے۔ اسرائیل کے فوجی ترجمان نے اِس بات پر زور دیا کہ اسرائیل کو ایران میں مختلف مقاصد حاصل کرنے ہیں اور وہ اس کیلئے امکانی توسیعی مہم کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیل، امریکہ کے ساتھ قریبی تال میل جاری رکھے ہوئے ہے اور نشانہ بنائے جانے والے سبھی مقامات پر صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد جوابی کارروائی کیلئے اس کے پاس سبھی متبادل موجود ہیں۔ اُس نے خبردار کیا ہے اِن حملوں کے دیرپا نتائج ہوں گے، جن سے مغربی ایشیا کا فوجی منظرنامہ تبدیل ہوسکتا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ منشور کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے، جبکہ ملک کی ایٹمی توانائی تنظیم نے زور دے کر کہا ہے کہ ان حملوں سے اس کا نیوکلیائی پروگرام نہیں رُکے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ ایران کئی امکانی لائحۂ عمل پر غور کر رہا ہے جس میں خطے میں امریکی اور اسرائیلی ٹھکانوں پر براہِ راست فوجی حملے سے لے کر لبنان، شام، عراق اور یمن میں پروکسی گروپوں کے اپنے وسیع نیٹ ورک کو بروئے کار لانا شامل ہے۔ایرانی عہدیداروں نے خطے میں امریکی اہلکاروں اور اثاثوں کو نشانہ بنائے جانے کے امکان کا بھی اشارہ دیا ہے۔
پنٹاگن کے سینئر عہدیداروں نے ایران کے تین نیوکلیائی ٹھکانوں Fordo، نتانز اور اسفہان میں بمباری کرنے کی امریکی کارروائی کی نئی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین Gen. Dan Caine نے آج صبح بتایا کہ آپریشن Midnight Hammer امریکی تاریخ میں سب سے بڑا B-2 آپریشنل حملہ تھا اور ٹھکانوں کو بہت زیادہ تباہ وبرباد کردیا گیا ہے۔ Caine نے بتایا کہ مشن میں سات B-2 Sprit بمبار شامل تھے۔
اسی دوران بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی IAEA نے تصدیق کی ہے کہ ایران کی نیوکلیائی تنصیبات پر امریکی حملوں کے بعد تابکاری کی سطح میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ بعد میں ایجنسی کے سربراہ رافیل گروسی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ایجنسی، ایران میں ہنگامی صورتحال کے تناظر میں کل ایک میٹنگ منعقد کرے گی۔
Site Admin | June 22, 2025 9:52 PM
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ تنازعہ کی کشیدگی کے دوران، ایران کے صدر مسعود پیزشکیان سے بات چیت کی۔ انہوں نے اِس کشیدگی کو مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے ذریعے فوری طور پر دور کرنے کی اپیل کی ہے