وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی بنگال میں مختلف ترقیاتی پروجیکٹوں کا افتتاح کیا، سنگ بنیاد رکھا اور آغاز کیا، جن کی لاگت 830 کروڑ روپئے سے زیادہ ہے۔ انھوں نے کولکتہ کو، ملک کے دیگر علاقوں سے ملانے والی، تین امرت بھارت ریل گاڑیوں کو بھی جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔
وزیر اعظم نے اِس موقع پر کہا کہ اِن سبھی مرکزی پروجیکٹوں سے، مغربی بنگال کی ترقی کی رفتار میں تیزی آئے گی۔ انھوں نے خاص طور پر کہا کہ ایک ترقی یافتہ بھارت کیلئے مشرقی بھارت کی ترقی لازمی ہے اور مرکزی حکومت اِس مقصد پر کاربند ہے۔ انھوں نے کہا کہ آسام اور مغربی بنگال میں اُن کے اِس دو روزہ پروگرام سے اُن کے عزم کو تقویت ملی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ بنگال میں آبی گذرگاہوں کیلئے زبردست امکانات ہیں اور مرکزی حکومت اِس پر کام کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ایسے ستون ہیں، جن پر مغربی بنگال کو مصنوعات سازی، تجارت اور لاجسٹکس کا ایک بڑا مرکز بنایا جاسکتا ہے۔
وزیر اعظم نے بالاگڑھ میں ’’توسیع شدہ پورٹ گیٹ نظام‘‘ کا سنگ بنیاد رکھا، جس میں اندرونِ ملک لوگوں اور سامان کو لانے لے جانے کا ایک ٹرمنل اور ایک پُل شامل ہے۔ انھوں نے کولکتہ میں جدید ترین الیکٹرک Catamaran کا بھی آغاز کیا۔بعد میں سِنگور میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت، مغربی بنگال کے نوجوانوں، کسانوں اور خواتین کی مدد کیلئے لگاتار کام کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرکز کی طرف سے، جو بہت سی فلاحی اسکیمیں شروع کی گئی ہیں، اُن کا مقصد اِس ریاست کے لوگوں کی گزربسر کو بہتر بنانا اور اُن کیلئے موقع فراہم کرنا ہے۔
البتہ وزیر اعظم نے الزام لگایا کہ ریاستی حکومت، اِن مرکزی اسکیموں پر عمل درآمد میں رکاوٹ ڈالتی رہی ہے، جس سے اِن کے فوائد لوگوں تک نہیں پہنچ رہے ہیں۔بعد میں سِنگور میں ایک پریورتن سنکلپ سبھا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے حکمراں ترنمول کانگریس کی شدید نکتہ چینی کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت، مغربی بنگال کے نوجوان، کسانوں اور خواتین کو مدد فراہم کرنے کیلئے مسلسل کام کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت کے ذریعے شروع کی گئیں مختلف بہبود کی اسکیموں کا مقصد ریاست میں روزی روٹی کو بہتر بنانا اور مواقع وضع کرنا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج آسام میں Nagaon ضلعے کے Kaliabor علاقے میں چھ ہزار 950 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے Kaziranga Elevated Corridor پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ انہوں نے کہا کہ 86 کلو میٹر طویل Kaziranga Elevated Corridor پروجیکٹ، ایک ماحولیات سازگار قومی شاہرہ پروجیٹ ہے۔ اِس میں 35 کلو میٹر طویل Elevated Wildlif کوریڈور ہوگا، جو Kaziranga نیشنل پارکیٹ سے ہوکر گزرے گا۔ پروجیکٹ کا مقصد علاقائی کنیکٹیوٹی کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پارک کی بیش بہا حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ یہ پروجیکٹ Nagaon، Karbi Anglong اور گولا گھاٹ اضلاع سے ہوکر گزرے گا اور بالائی آسام، خاص طور پر ڈبرو گڑھ اور تین سُکیا کیلئے کنیکٹیوٹی میں نمایاں بہتری لائے گا۔ Elevated Wildlif کوریڈور، جانوروں کی بلا روک ٹوک نقل و حرکت کو یقینی بنائے گا اور انسان اور جانوروں کے درمیان ٹکڑاؤ کو کم کرے گا۔ Kaliabor میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کرنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب مودی نے کہا کہKaziranga صرف ایک نیشنل پارک ہی نہیں ہے بلکہ یہ آسام کی روح ہے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ یونیسیکو نے Kaziranga کو ایک عالمی ورثے کے مقام طور پر تسلیم کیا ہے۔وزیر اعظم نے آسام کے Nagaon ضلع میں Kaliabor کے مقام پر دو نئی امرت بھارت ایکسپریس ٹرینوں کو بھی جھنڈی دکھاکر روانہ کیا۔ اِن ٹرینوں کے نام ہیں: Kamakhya-Rohtak امرت بھارت ایکسپریس اور ڈبڑو گڑھ-لکھنؤ (گومتی نگر) امرت بھارت ایکسپریس۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ گواہاٹی میں باگورُمبا دوہو فیسٹیول، اُن کیلئے ایک ناقابل فراموش موقع تھا۔ ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں جناب مودی نے کہا کہ اِس پروگرام کے، ملک بھر میں چرچے ہیں اور لوگ اِس مالامال اور عظیم ثقافت کی بڑے پیمانے پر ستائش کر رہے ہیں۔وزیر اعظم نے اِس تقریب میں نمایاں کئے گئے متحرک بوڈو کلچر کو بھی اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ دس ہزار سے زیادہ لوگوں کی شرکت اور شاندار لیزر شو قابل دید تھے۔