وزیر اعظم نریندر مودی نے آج گجرات میں احمدآباد سول اسپتال کا دورہ کیا اور ایئر انڈیا کے طیارے کے گِر کر تباہ ہونے میں زخمی ہونے والوں سے ملاقات کی۔ اس حادثے میں241 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم نے راحت اور بچائو کی جاری کوششوں کا جائزہ لینے کیلئے اعلیٰ حکام کے ساتھ احمدآباد ہوائی اڈّے پر ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت بھی کی۔
بعد میں سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ میں وزیر اعظم نے کہا کہ احمدآباد میں ہوئے اِس ہوائی حادثے سے ملک صدمے سے دوچار ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے اچانک اور دِل دہلانے والے حادثے میں اتنی ساری زندگیوں کا جاں بحق ہونا الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
وزیر اعظم نے اِس ہوائی حادثے میں بچنے والے واحد فرد وشواش کمار رمیش سے بھی ملاقات کی جو بھارتی نژاد برطانوی باشندے ہیں اور جن کا اِس وقت ایک مقامی اسپتال میں علاج ہو رہا ہے۔ بعد میں جناب رمیش نے پرسار بھارتی کے نمائندے کے ساتھ اِس ہولناک تجربے کو شیئر کیا۔
وزیر اعظم نے جہاز کے گِر کر تباہ ہونے والے مقام کا بھی دورہ کیا اور کہا کہ تباہی کا منظر انتہائی ہولناک ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ وہ اُن لوگوں کیلئے دعاگو ہیں جنھوں نے اِس ناقابل تصور حادثے میں اپنی جانیں گنوائی ہیں۔
جب قسمت تیز اور المناک رُخ اختیار کرتی ہے، تو حالات میں ہونے والی چھوٹی سی بھی تبدیلی، زندگی اور موت کے درمیان فرق واضح کرتی ہے۔ یہ بات کَل کے طیارے کے المناک حادثے میں سامنے آئی ہے۔
گجرات کے بھروچ کی رہنے والی بھومی چوہان اسی طرح کے حالات میں تبدیلی سے بچنے والے چند مسافروں میں سے ایک ہیں۔ ان کی ایئر انڈیا کی وہ پرواز چھوٹ گئی تھی جو کَل گِر کر تباہ ہوگئی۔ بھومی اور اُن چند دیگر افراد کی کہانی، جنھیں اُس پرواز پر سوار ہونا تھا، اس بات کی یاد دہانی کراتی ہیں کہ اُن کو اُسی طرح کے قسمت کا سامنا کرنا تھا اور یہ کہ حادثے کا شکار ہونے اور بچنے میں کتنا کم فرق ہوتا ہے۔ محترمہ بھومی نے شیئر کیا کہ وہ احمدآباد میں ٹریفک کی وجہ سے، چیک اِن گیٹ پر دس منٹ تاخیر سے پہنچی تھیں اور انھیں جہاز پر سوار ہونے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔البتہ دیگر لوگ اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔ بہت سوں کیلئے یہ سفر خوشی کا آغاز تھا۔
ایک ڈاکٹر جوڑا، امیدوں سے بھرا، برطانیہ میں خاندان کے طور پر نئی زندگی کا آغاز کر نے جا رہا تھا، لیکن اُن کے خواب اس پرواز کے المیے پر اختتام پذیر ہوگئے۔ ایک 35 سالہ خاتون وڈوڈرہ میں اپنے والدین کے ساتھ اپنی صاحبزادی کو چھوڑنے کے بعد، برطانیہ واپس جارہے تھے- لیکن کیا پتہ تھا کہ وہ کبھی گھر پہنچ ہی نہیں سکیں گی۔ لندن میں اپنی چھٹیاں گزارنے کیلئے پُرجوش دو بہنیں اُس جہاز پر ہنستی مسکراتی سوار ہوئیں جو اگلا دن نہیں دیکھ سکیں۔ وہ تمام اِس پرواز پر اِس بات سے بے خبر سوار ہوئے تھے کہ اس پرواز کے اڑان بھرنے کے بعد کبھی اترنے کی باری نہیں آئے گی۔
Site Admin | June 13, 2025 9:56 PM
وزیر اعظم نریندر مودی نے احمدآباد کے ہوائی جہاز کے گِرنے کے حادثے کے المیے سے متعلق ایک جائزہ میٹنگ کی صدارت کی