وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے آج کہا کہ بھارت دہشت گردی سے اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا اور کوئی بھی یہ طے نہیں کر سکتا کہ بھارت اپنا دفاع کس طرح کرے۔ چنئی میں IIT مدراس کے ٹیکنو انٹرٹینمنٹ فیسٹ شاستر 2026 کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی حفاظت کیلئے جو بھی ضروری قدم ہوگا، وہ اُٹھائے گا۔ وزیرِ خارجہ نے بھارت کی ہمسایہ ممالک سے متعلق پالیسی کو اجاگر کرتے ہوئے اِس بات پر زور دیا کہ نئی دلّی کو دشمن ہمسایوں کی جانب سے ہونے والی دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل سرحد پار دہشت گردی خیرسگالی کے عمل کو نقصان پہنچاتی ہے اور پانی کی تقسیم جیسے فوائد کو بھی بے معنی بنا دیتی ہے، کیونکہ تعاون اور تشدد ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہیں۔
بھارت کے وسیع تر نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے جناب جے شنکر نے وسودھیو کٹم بکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی خارجہ پالیسی دنیا کو ایک خاندان کے طور پر دیکھتی ہے اور قومی طاقت اور شراکت داریوں کے ذریعے مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ علاقائی پیش رفت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بنگلہ دیش کا ذکر کیا اور کہا کہ وہ حال ہی میں سابق وزیرِ اعظم خالدہ ضیاء کی آخری رسوم میں شرکت کیلئے ڈھاکہ گئے تھے۔×