وزیرِ اعظم نریندر مودی آج اردن، ایتھوپیا اور Oman کے تین ملکوں کے دورے پر روانہ ہوگئے۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں، جناب مودی شاہ عبداللہ دوئم ابن الحسین کی دعوت پر اردن کا دورہ کریں گے۔ روانگی کے موقع پر اپنے بیان میں، وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ اردن کے شاہ عبداللہ اور وزیرِ اعظم جعفر حسن کے ساتھ تفصیلی تبادلہئ خیال کریں گے۔ جناب مودی Amman میں آباد بھارتی برادری سے بھی ملاقات کریں گے، جنہوں نے بھارت – اردن تعلقات میں نمایاں تعاون کیا ہے۔ جناب مودی کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 برس مکمل ہونے کے موقع پر ہورہا ہے۔
Amman سے وزیرِ اعظم کَل ایتھوپیا کی راجدھانی Addis Ababa جائیں گے۔ وہ ایتھوپیا کے وزیرِ اعظم ڈاکٹر Abiy احمد علی کے ساتھ تفصیلی بات چیت کریں گے۔ جناب مودی وہاں آباد بھارتی برادری سے ملاقات کریں گے اور پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے بھی خطاب کریں گے۔ اپنے دورے کے آخری مرحلے میں، جناب مودی بدھ کے روز اومان کے مسقط پہنچیں گے۔ وزیرِ اعظم کا یہ دورہ بھارت اور Oman کے درمیان سفارتی تعلقات کے 70 برس مکمل ہونے کے موقع پر ہورہا ہے۔ مسقط میں، جناب مودی Oman کے سلطان کے ساتھ تبادلہئ خیال کریں گے اور وہاں آباد بھارتی برادری سے بھی خطاب کریں گے۔
بھارت اور اردن کے درمیان تعلقات گہرے تاریخی رشتوں، باہمی احترام اور سیاسی، اقتصادی اور کلیدی شعبوں میں بڑھتے اشتراک پر مبنی ہیں۔ 1950 میں قائم ہوئے سفارتی تعلقات گذشتہ 75 برس میں مستحکم ہوئے ہیں، جس سے علاقائی استحکام، ترقی اور رابطوں کی مشترکہ دلچسپی کا اظہار ہوتا ہے۔ آج باہمی تعلقات مسلسل اعلیٰ سطحی رابطوں اور اعلیٰ قیادت کے درمیان آپسی سمجھ بوجھ پر مبنی ہیں۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی کا اردن کا یہ دورہ تقریباً چار دہائیوں میں کسی بھارتی وزیرِ اعظم کا پہلا باضابطہ مکمل دورہ ہے۔ اُن کے اِس دورے سے، بھارت-اردن تعلقات اور دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور اشتراک کے رشتے مزید مستحکم ہونے کا امکان ہے۔