وزیر اعظم نریندر مودی آج تین ملکوں اُردن، ایتھیوپیا اور عُمان کے تین روزہ دورے پر جائیں گے۔ اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں وہ شاہ عبداللہ دوئم ابن الحسین کی دعوت پر اُردن جائیں گے۔ وزیر اعظم مودی دوطرفہ تعلقات کے پورے منظرنامے کا جائزہ لینے اور علاقائی معاملات پر تبادلہئ خیال کے مقصد سے اُردن کے شاہ سے ملاقات کریں گے۔
جناب مودی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے، جب دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال پورے ہو رہے ہیں۔
بھارت اور اُردن کی سلطنت کے درمیان تعلقات، تاریخی رشتوں، باہمی احترام اور سیاسی و اقتصادی نیز دفاعی میدانوں میں بڑھتے ہوئے تعاون پر مبنی ہے۔ سفارتی تعلقات 1950 میں قائم ہوئے تھے اور اِن میں پچھلے 75 برس میں آہستہ-آہستہ استحکام پیدا ہوا ہے، جس سے علاقائی مضبوطی، ترقی اور مذاکرات میں مشترکہ مفادات کا اظہار ہوتا ہے۔
دوطرفہ تعلقات کے تحت آج اعلیٰ سطح کے لگاتار مذاکرات اور قیادت کی سطح پر قریبی مفاہمت شاہ عبداللہ دوئم نے کئی موقعوں پر بھارت کا دورہ کیا ہے، جس میں اُن 2018 کا اہم ترین دورہ بھی شامل ہے۔
آج اُردن کا وزیر اعظم کا یہ دورہ کسی بھارتی وزیر اعظم کا ایک مکمل دوطرفہ دورے کی اہمیت کا حامل ہے، جو تقریباً 4 دہائیوں میں کیا جا رہا ہے۔
اُردن میں متحرک بھارتی برادری نے، بھارتی وزیر اعظم کے پہنچنے سے پہلے کافی بے صبری کا مظاہرہ کیا ہے اور اس دورے کو ایک فخر کا لمحہ قرار دیا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان عوام سے عوام کے مضبوط رشتوں کی عکاسی ہوتی ہے۔
امید ہے کہ اس دورے سے بھارت-اُردن تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان دوستی اور تعاون میں اضافہ ہوگا۔
کل وزیر اعظم ایتھیوپیا کیلئے روانہ ہو جائیں گے۔ یہ اِس ملک کا اُن کا پہلا دورہ ہوگا۔ جناب مودی، ایتھیوپیا کے اپنے ہم منصب سے ملاقات کریں گے اور بھارت-ایتھیوپیا تعلقات کے سبھی پہلوؤں پر وسیع بات چیت کریں گے۔
اپنے دورے کے آخری مرحلے میں وزیر اعظم عُمان جائیں گے اور وہاں سلطان Haitham ابن طارق سے ملاقات کریں گے۔ یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 70 سال پورے ہونے کے موقعے پر کیا جا رہا ہے۔×