وزارت دفاع نے آج کہا ہے کہ آپریشن سندور، بھارت کے دفاعی نظریے میں ایک اہم موڑ ہے، جس میں مسلح افواج کی تینوں شاخوں کے درمیان تال میل، فوجی حکمتِ عملی کی وسعت اور ٹیکنالوجیکل برتری کا مظاہرہ ہوا۔ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد شروع کیے گئے آپریشن سندور کے دوران مسلح افواج کی تینوں شاخوں کی نہایت درستگی کے ساتھ نپی تلی جوابی کارروائی، پیشہ ورانہ مہارت اور مقصد کا مظاہرہ ہوا۔ وزارت نے بتایا کہ آپریشن سندور، ایک تعزیری اور کنٹرول لائن کے اُس پار اور پاکستان کے بہت اندر دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی ایک مخصوص مہم تھی۔ کثیر ایجنسی انٹلیجنس نے9 بڑے کیمپوں کی تصدیق فراہم کی، جنہیں آخرکار نشانہ بنایا گیا۔ بھارت کی جوابی کارروائی بہت محتاط منصوبہ بندی اور انٹلیجنس کی رہنمائی والے نظریے پر مبنی تھی۔
مربوط کمانڈ اور کنٹرول کی حکمت عملی نے اِس کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔
بھارتی فضائیہ نے پاکستان میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف درستگی کے ساتھ حملے کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس نے نور خان ایئر بیس اور رحیم یار خان ایئر بیس جیسے نشانوں پر بھرپور فضائی کارروائی کی۔ ملک میں تیار کردہ سطح سے فضا میں وار کرنے والے آکاش میزائل نظام اور Pechora اور OSA-AK جیسے پلیٹ فارمز کو موثر طریقے سے تعینات کیا گیا۔ فوج کے فضائی دفاعی یونٹوں نے فضائیہ کے ساتھ مل کر کام کیا اور بحریہ نے MIG-29K لڑاکا جیٹ اور پیشگی وارننگ دینے والے ہیلی کاپٹروں سے لیس اپنے Carrier Battle گروپ کو تعینات کیا۔ اِس سے بحری علاقوں کی مسلسل نگرانی اور خطرے کی بروقت نشاندہی کو یقینی بنایا جاسکا۔
Site Admin | May 18, 2025 9:54 PM
وزارت دفاع نے آپریشن سندور کو بھارت کے دفاعی نظریے میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے جس میں مسلح افواج کی تینوں شاخوں کے درمیان تال میل، فوجی حکمت عملی کی وسعت اور ٹیکنالوجیکل برتری کامظاہرہ ہوا ہے